0
Tuesday 16 Jul 2019 07:55

حکومت تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لا کر متاثرین کی آباد کاری کرے گی، مسعود خان

حکومت تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لا کر متاثرین کی آباد کاری کرے گی، مسعود خان
اسلام ٹائمز۔ صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے وادی نیلم میں قدرتی آفت سے ہونے والے جانی ومالی نقصان پر گہرے دکھ و رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لا کر متاثرین کی مدد اور ان کی آبادکاری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے فوری طورپر متاثرہ علاقے میں امدادی کیمپ قائم کر دیے ہیں جہاں انتظامیہ، پاک فوج اور مقامی افراد کی مدد سے متاثرین کی بھرپور مدد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر حکومتی اور عوامی بہبود کے لئے رضاکارانہ خدمات انجام دینے والی تنظیمیں اسلامی معاشرے کا اثاثہ اور طاقت ہیں جن پر فرض ہے کہ وہ مصیبت کی گھڑی میں دوسروں کی مدد کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز راولاکوٹ کے قریب ہورنہ میرہ میں علاقے کی معروف سماجی تنظیم صوفی عزیز فاؤنڈیشن کے نو منتخب عہدیداران کی تقریب حلف برداری سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوفی عزیز فاؤنڈیشن نے اس علاقے میں علم، ترقی اور عوام کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنے میں قابل فخر کام کیا ہے اور تنظیم نے علم کی جو شمع روشن کی ہے اور غربت کے خاتمے کے لئے جس مشن کی بنیاد رکھی ہے اسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ تقریب سے آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن سردار صغیر خان چغتائی، ممبر آزاد جموں و کشمیر کونسل سردار عبد الخالق وصی، جمعیت علماء اسلام آزادکشمیر کے امیر شیخ الحدیث مولانا سعید یوسف، صوفی عزیز فاؤنڈیشن کے سرپرست اعلیٰ سردار سعید عزیز، سردار توصیف عزیز، سردار نذیر خان اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

صدر آزادکشمیر نے کہا کہ غیر حکومتی تنظیموں سے شفافیت اور جوابدہی کا تقاضا کیا جاتا ہے اور اس اعتبار سے صوفی عزیز فاؤنڈیشن نے نہایت منظم، شفاف اور جوابدہی کے احساس سے کام کر کے ایک قابل تقلید مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور نبی کریم جب منصب نبوت پرفائز ہوئے تو مکہ اور مدینہ میں غربت تھی اور لوگ نان شبینہ کو ترستے تھے لیکن پھر ایک مختصر عرصے میں وہ انقلاب آیا جب پوری اسلامی ریاست میں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں تھا۔ یہ سب کچھ اس لئے ممکن ہوا کہ اسلامی ریاست کا ہر شہری لینے کے بجائے دینے پر یقین رکھتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اہل مغرب عوامی بہبود کا کام رضاکارانہ طور پر کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کے لئے دوسروں کی مدد کرنا رضاکارانہ کام نہیں بلکہ فرض کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی اقدار سے انحراف کر کے دنیا سے مدد مانگتے پھرتے ہیں لیکن قرآن وسنت میں زکوٰۃ کی صورت میں ہماری تمام ضروریات کا حل پیش کر دیا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ کشمیر اور پاکستان کے لوگ سب سے زیادہ مدد دینے والے لوگ ہیں جسے دنیا تسلیم کرتی ہے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ لوگوں کو یقین دلایا جائے کہ ان کے عطیات اور مالی امداد درست کاموں پر خرچ کی جائے گی۔ اگر یہ اعتماد ہم بحال کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہمارے بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں آباد پاکستانی اور کشمیری مڈل کلاس کے لوگ امریکہ کہ مقامی شہریوں سے زیادہ عطیات دیتے ہیں اور رضاکارانہ کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوفی عزیز فاؤنڈیشن نے راولاکوٹ اور گردو نواح کے طلبہ کی مالی امداد سے اپنا کام شروع کیا اور آج یہ تنظیم تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر کی تعمیر سمیت متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور ہر سال کروڑوں روپے اس علاقے کی تعمیر و ترقی پر خرچ کر رہی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شفاف انداز میں دیانت داری سے کام کرنے والوں کو مالی امداد دینے والے لوگوں کی آج بھی کوئی کمی نہیں۔

انہوں نے لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں نوجوانوں کو اپنا حق مانگنے پر شہید کیا جا رہا ہے، سیاسی اکابرین کو جیلوں میں بند کر کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، خواتین کی بے حرمتی کی جا رہی ہے ان حالات میں ہم اپنے علاقے کی تعمیر و ترقی کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں اور بہنوں کو بھی کبھی بھول نہیں سکتے۔
خبر کا کوڈ : 805239
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے