0
Tuesday 16 Jul 2019 11:15

ایسٹر حملوں میں منشیات فوش ملوث ہیں، سری لنکن صدر

ایسٹر حملوں میں منشیات فوش ملوث ہیں، سری لنکن صدر
اسلام ٹائمز۔ سری لنکا کے صدر نے ایسٹر حملوں کا ذمہ دار عالمی منشیات فروشوں پر لگا دیا۔ ذرائع کے مطابق ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ملک میں منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے جبکہ صدر متھریپالا سریسینا نے منشیات سے متعلق جرائم میں سزائیں دوبارہ متعارف کرانا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل حکام کا کہنا تھا کہ مقامی شدت پسند تنظیم قومی توحید جماعت (این ٹی جے) گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر ہونے والے حملوں کی ذمہ دار ہیں۔ روں برس اپریل کے مہینے میں ہونے والے ایسٹر حملے، جس میں 258 افراد ہلاک ہوئے تھے، کی ذمہ ری داعش نے قبول کی تھی۔ متھریپالا سریسینا کے دفتر نے حملوں کے ایک روز بعد بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقامی دہشت گرد اور عالمی دہشت گرد تنظیم حملے کی ذمہ دار ہیں۔ تاہم پیر کے روز ان کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ حملے کے ذمہ دار انٹرنیشنل ڈرگ ڈیلرز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’منشیات فروشوں نے یہ حملہ کیا تاکہ میری حکومت پر سے اعتماد ختم کیا جائے اور میری انسداد منشیات مہم کا خاتمہ کیا جا سکے، میں کسی کے دباؤ میں نہیں آؤں گا‘۔ متھریپالا سریسینا اور ان کی اتحادی حکومت پارلیمنٹ میں سزاؤں کے خاتمے کے خلاف لڑ رہی ہیں۔

وزیر اعظم رنیل وکرم سنگھ کے ترجمان نے صدر کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’پولیس نے تحقیقات 2 ہفتوں میں مکمل کر لی تھیں۔ سدارشا گوناوردنا کا کہنا تھا کہ ’پولیس نے کسی منشیات فروش کے ملوث ہونے کا ذکر نہیں کیا، ہم اپنے تحقیق کاروں پر شک نہیں کر سکتے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سزاؤں کے خدشات کے بجائے فوری انصاف منشیات ٹریفکرز کے لیے دباؤ کا باعث بنے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں نہیں لگتا کہ کسی کو سولی پر چڑھانے سے معاملہ حل ہو گا بالخصوص جب فیصلوں میں دہائیاں لگ جاتی ہوں‘۔

متھریپالا سریسینا کا کہنا تھا کہ ’ہر وہ شخص جو حملے میں ملوث تھا، یا تو مارا جاچکا ہے یا حراست میں ہے، سزائے موت سے غیر قانونی منشیات فروشوں پر دباؤ میں اضافہ ہو گا اور اگر حکومت قانون سازی کرکے اس سزا کو ختم کرتی ہے تو میں قومی سطح پر یوم سوگ کا اعلان کروں گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بدھ مذہبی پیشوا سوبیتھا نے انہیں تجویز دی ہے کہ سزائے موت کو بحال کریں اور منشیات کے خلاف جنگ کو ترک نہ کریں۔

واضح رہے کہ سری لنکا میں عدالتیں منشیات فروشوں، قاتلوں اور ریپ کے مجرمان کو سزائے موت سناتی ہے تاہم وہ خود بخود عمر قید میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں سری لنکا کے سپریم کورٹ نے متھریپالا سریسینا کا 4 منشیات سے متعلق جرائم میں ملوث افراد کے سزائے موت کو معطل کیا تھا۔ عدالت نے سزائے موت پر عمل در آمد ملک کے آئین میں سے متعلق پٹیشن پر فیصلے تک روک دی تھی۔ اس کیس کی اگلی سماعت اکتوبر کے مہینے میں ہو گی۔
خبر کا کوڈ : 805276
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے