0
Wednesday 17 Jul 2019 16:48
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال

این آر او نہیں مانگیں گے، یہ جنگ آخر تک لڑیں گے، خواجہ آصف

فیصلہ سنانے والا جج چلا گیا مگر نواز شریف قید میں ہے
این آر او نہیں مانگیں گے، یہ جنگ آخر تک لڑیں گے، خواجہ آصف
اسلام ٹائمز۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پارٹی قیادت اور کارکن آخری حد تک یہ جنگ لڑیں گے، خلق خدا کا فیصلہ نواز شریف، شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے لیے ہے۔ قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیصلہ سنانے والا جج واپس چلا گیا لیکن نوازشریف آج بھی قید ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی کابینہ کے رکن رہنے والوں کو شرم آنی چاہیے، دعاگو ہیں ہمیں انصاف ملے اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں ایک وزیراعظم کا قتل ہوا جس پر قوم اب تک شرمسار ہے، نواز شریف اور بھٹو کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کوئی اور بات کریں تو کہتے ہیں کہ این آر او مانگ رہے ہیں، یاد رکھیں اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان اور آئین کا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مشرف کے دور میں بھی قید کاٹی تھی اٹک جیل میں تذلیل کے لیے ہتھکڑی لگائی جاتی تھی،آج بھی خواجہ آصف اس ایوان میں کھڑا ہے، سعد رفیق اور مستقبل میں گرفتار ہونے والے افراد قید کاٹ لیں گے۔ رانا ثناءاللہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ  2002ء میں انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا،آج ان پر ہیروئن کا کیس ڈال دیا گیا، ماضی میں بھینس چوری کے مقدمے بنائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں التجا کرتا ہوں یہ سب سیاسی کارکنوں کے لیے بہتر نہیں، جہاں انصاف نہیں رہتا وہ معاشرے ختم ہو جاتے ہیں۔ وزیر مملکت علی محمد خان نے  قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف ہم پر تو الزامات ایسے لگا رہی ہے جیسے پینتیس سال یہ نہیں ہم اقتدار میں رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سابق وزیر اعظم نے سات کروڑ روپے عمرے پر اڑا دیئے جبکہ لندن سے اسٹوری آئی کہ زلزلے کے پیسے بھی ڈکار لئے گئے، یہ کسی پاکستانی صحافی نے خبر نہیں دی، جائیں لندن جاکر کیس کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب فاروق اعظم سے سوال ہوسکتا ہے تو زرداری نواز شریف عمران اور علی محمد خان سے کیوں نہیں ہوسکتا ؟ علی محمد خان نے کہا کہ خواجہ آصف کہتے ہیں رہے گا نام نواز شریف کا، یار رکھو رہے گا نام اللہ کا اور پھر پاکستان کا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ  میں کابل جا کر سفارتخانے میں رہ سکتا ہوں، وزیر اعظم واشنگٹن میں سفارت خانے میں رہ سکتے ہیں تو یہ کیوں نہیں رہ سکتے تھے۔
خبر کا کوڈ : 805504
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب