0
Saturday 20 Jul 2019 20:01

مرضی کے نتائج کیلئے سینیٹ الیکشن کو کنٹرول کرنیکی سازش ہو رہی ہے، مخدوم جاوید ہاشمی

مرضی کے نتائج کیلئے سینیٹ الیکشن کو کنٹرول کرنیکی سازش ہو رہی ہے، مخدوم جاوید ہاشمی
اسلام ٹائمز۔ سابق ممبر قومی اسمبلی و سینیئر سیاست دان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لئے سینٹ کے انتخابات کو کنٹرول کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، کیونکہ تمام انتخابی اداروں میں کنٹرول کے بغیر مرضی کے نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے، سینٹ کے ادارے کی وفاقی حیثیت مسلمہ ہے، سینیٹ کے انتخابات کو بار بار ملتوی کرکے پاکستان کی بنیادی اکائی کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، قبائلی علاقوں میں کرائے جانے والے انتخابات کے نتائج نے پہلے ہی شکوک شبہات پیدا کر دیئے ہیں، سینیٹ اور پختونخوا میں میں شامل ہونے والے علاقے پاکستان میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، سینیٹ سب سے زیادہ بلوچستان کی اپنی ساکھ کے لئے واحد جمہوری ادارہ ہے، جہاں بلوچستان کی محروم عوام کو پذیرائی ملتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب اس ادارے میں جمہوری طور پر چیئرمین لانے کی مثبت کوشش کو پذیرائی ملنے لگی ہے، مگر چند ادارے جمہوریت کو بے اوقات کرنا چاہتے ہیں، یہ وفاق کی اکائی پر اتنا گہرا زخم ہوگا کہ جس کا مداوا نہیں ہوسکے گا۔ ملتان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ واضح تعداد 65 سینیٹر سے بھی زیادہ ہے، اس کو اقلیت کی حیثیت میں تبدیل کرنا اور اس پر 35 سینیٹر کی اقلیت کو مسلط کرنا یا کرنے کی کوشش کرنا ہماری تاریخ کی سب سے بڑی ہارس ٹریڈنگ ہوگی، یہ گھائو اتنا گہرا ہوگا کہ جس کو بلوچستان کے لوگ اکثریت پر اقلیت کی سلیکشن کرنے والی قوتوں کی کامیابی سمجھیں گی، یہ سلیکشن بھی بلوچستان کی تاریخ میں بری نظر سے دیکھی جائے گی۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے مزید کہا کہ خود مختار اداروں اور سینیٹ الیکشن کرانے والے مرکزی کردار ادا کرنے والے اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ پاکستان کو بین الاقوامی طور پر درپیش مشکلات کم کرنے کے لئے اپنے رول کو ادا کریں، یہ ان اداروں اور ہم سب کی بہتری کے لئے مناسب ہوگا، ورنہ یہ دیمک پاکستان کے وجود کو آہستہ آہستہ چاٹ جائے گی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ عدلیہ، عسکری قیادت اور سیاسی قیادت کو مثبت طرز عمل سے آنے والے بحرانوں کو روکا جا سکتا ہے، ان ادارووں کی غیر ذمہ دارانہ رویوں کی وجہ سے پاکستان ہی بحرانوں کی سرزمین بن چکا ہے، پاکستان مخالف قوتوں نے پاکستان کو سرزمین بے آئین سمجھا ہوا ہے، کئی بار 1973ء کے آئین کا حلف اٹھایا ہے، لیکن یہ حلف صرف کاغذی کارروائی ثابت ہوا ہے۔
خبر کا کوڈ : 806032
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے