0
Saturday 20 Jul 2019 20:54

سانحہ ماڈل ٹاون کیس کی سماعت، مدعی جواد حامد نے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا

سانحہ ماڈل ٹاون کیس کی سماعت، مدعی جواد حامد نے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا
اسلام ٹائمز۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس کے سلسلے میں مدعی جواد حامد نے انسداد دہشتگردی عدالت لاہور میں اے ٹی سی جج اقبال چدھڑ کی عدالت میں اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ 17 جون 2014ء کے دن ماڈل ٹاؤن میں ایس پی سی آئی اے عمر ورک نے ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی رہائش گاہ کے قریب واقع پی ٹی سی ایل کی بلڈنگ کے پاس کھڑے ہوئے کارکنان پر ایس ایم جی سے فائرنگ کی، ایک فائر خاور نوید کو پیشانی کے دائیں جانب لگا جسے شدید زخمی حالت میں جناح ہسپتال لاہور پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 19 جون 2014ء کو جاں بحق ہو گیا، اس دوران ڈی ایس پی خالد ابوبکر، ڈی ایس پی کاشف خلیل، ڈی ایس پی سی آئی اے میاں شفقت علی، انسپکٹر سی آئی اے بشیر نیاز، انسپکٹر سی آئی اے کینٹ شاہ نواز نے بھی فائرنگ کی جس سے محمد عمر اور متعدد کارکنان زخمی ہوئے، محمد عمر کے پیٹ میں گولی لگی، انسپکٹر شاہ نواز کی فائرنگ سے عبدالقیوم کو پٹ پر گولی لگی۔

انہوں نے مزید اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ 17 جون 2014ء کو ڈی ایس پی عمران کرامت نے رضوان خان کو دائیں کندھے کی پشت پر ایس ایم جی کا فائر مارا، رضوان خان کو شدید زخمی حالت میں جناح ہسپتال لاہور پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 19 جون 2014 ء کے دن جاں بحق ہو گئے، اسی دوران ڈی ایس پی عمران کرامت کے گن مین امجد حسین نے اندھا دھند فائرنگ کی، ایک گولی ہارون محمود کی بائیں ٹانگ میں لگی، ایک فائر محمد شکیل وحید کو پاؤں کے ٹخنے پر لگا۔ جواد حامد نے بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہاکہ ایس پی سلمان علی خان کے حکم پر عبدالرؤف سب انسپکٹر نے شہباز علی پر فائرنگ کی جس کا ایک فائر شہباز کی گردن پر لگا، اسے بھی شدید زخمی حالت میں جناح ہسپتال لاہور پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 24 جون کو جاں بحق ہو گیا، اس دوران نوید ہیڈ کانسٹیبل، خرم رفیق ہیڈ کانسٹیبل، ایس پی سلمان کے حکم پر اندھا دھند فائرنگ کرتے رہے اور اس دوران ایس پی سلیمان بآواز بلند حکم دیتے رہے کہ ادارہ منہاج القرآن کو ٹیک اوور کر لیں اور پھر پولیس کی ایک بھاری نفری ادارہ منہاج القرآن کے مرکزی گیٹ پر ٹوٹ پڑی اور افسران بآواز بلند کہتے رہے انہیں وٹے نہیں گولی دینی ہے۔

انہوں نے اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ ایس پی سکیورٹی سلمان علی کے حکم پر کوٹھی نمبر303 ایم بلاک کی چھت سے مورچہ بند QRF کے سب انسپکٹر حسن علی نے فائر کیا جو ڈاکٹر محمدطاہرالقادری کی رہائش گاہ کی چھت پر موجود منیر حسین کی ٹھوڑی پر لگا اور ایس پی سکیورٹی سلمان کے حکم پر پولیس اہلکار اندھا دھند ڈاکٹرطاہرالقادری کی رہائش گاہ پر گولیاں برساتے رہے۔ عدالت میں نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ، انوار اختر ایڈووکیٹ، سردار غضنفر حسین ایڈووکیٹ موجود تھے۔ مزید سماعت آئندہ جمعہ کو ہو گی۔
خبر کا کوڈ : 806036
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے