0
Tuesday 23 Jul 2019 19:56

وفاقی وزیر داخلہ سے طاہر اشرفی کی قیادت میں وفد کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر داخلہ سے طاہر اشرفی کی قیادت میں وفد کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈئیر (ر) اعجاز احمد شاہ نے پاکستان علماء کونسل کے 15 رکنی وفد کی ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ آئین میں موجود عقیدہ ختم نبوت اور اسلامی دفعات میں ترمیم یا خاتمے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، مدارس عربیہ کے مقام کو دیکھتے ہوئے وزارت تعلیم سے رجسٹریشن کا فیصلہ کیا، مدارس کے دینی نصاب میں ترمیم کی کوئی تجویز نہیں، انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلے علماء اور حکومت کو مشترکہ جدوجہد کرنی ہے، عمران خان کی نیت مدینہ منورہ کی طرز کی ریاست کی ہے، مدینہ منورہ جیسی ریاست اسی صورت بنے گی جب پوری قوم جدوجہد کرے گی، مدارس و مساجد کے مسائل کا حل اولین ترجیح ہے۔ ملاقات کرنیوالے وفد کی قیادت مرکزی چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور وفاق المساجد و المدارس پاکستان کے صدر حافظ طاہر محمود اشرفی نے کی۔ وفد میں مولانا نعمان حاشر، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا اسعد الرحمن سعید، مولانا قاسم قاسمی، مولانا ابوبکر صابری، مولانا افضل شاہ الحسینی، مولانا دائود، مولانا عابد اسرار، مولانا عبدالحادی، مولانا محمد اشفاق پتافی اور دیگر بھی شامل تھے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام کا نظام عدل و اعتدال پوری دنیا کیلئے رہنمائی کا سبب ہے، علماء کو وحدت امت کیلئے اسلام کی تعلیمات کو عام کرنا چاہیے۔ اسلام کا نام لے کر تعصب اور انتہاء پسندی پھیلانے والے اسلام اور مسلمانوں کے دوست نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی خارجہ اور داخلہ پالیسی واضح ہے، پاکستان کا مفاد ہمیں عزیز ہے، عمران خان سے قبل کسی نے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی بات نہیں کی، عمران خان کی نیت اور ارادہ درست ہے، ریاست مدینہ منورہ تب ہی بن سکتی ہے جب تمام طبقات اس کیلئے جدوجہد کریں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس عربیہ اور مساجد انتہائی محترم ہیں، مدارس عربیہ کے طلباء کے مقام اور مرتبہ کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی رجسٹریشن وزارت تعلیم کیساتھ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت مدارس کے طلباء کو سرکاری سند دینا چاہتی ہے تاکہ تمام زندگی کے شعبوں میں وہ بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی عقیدہ ختم نبوت اور اسلامی دفعات میں ترمیم یا خاتمے کا تصور بھی ممکن نہیں، سیاسی مقاصد کیلئے مذہب اور فتوے کا استعمال افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ علماء کو فتنہ اور فساد پھیلانے والے عناصر کو بے نقاب کرنا چاہیے، اسلام کا نام لے کر سیاسی اور ذاتی مقاصد کیلئے فتوے دینے والوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے سعودی عرب کے ولی عہد سے روڈ ٹو مکہ المکرمہ پروگرام کا مطالبہ کیا تھا جسے سعودی عرب کی حکومت نے پاکستان کو روڈ ٹو مکہ المکرمہ پروگرام میں شامل کیا جس پر ہم سعودی عرب کی حکومت کے شکر گذار ہیں۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان علماء کونسل نے ہمیشہ اسلام کی سربلندی اور پاکستان کے استحکام کیلئے جدوجہد کی ہے، دہشتگردی اور انتہاء پسندی کیخلاف 2000ء میں پاکستان علماء کونسل نے تمام مکاتب فکر کا مشترکہ فتویٰ جاری کیا تھا، سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت پھیلانے والے عناصر کی سر کوبی کیلئے پاکستان علماء کونسل حکومت کیساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کو وزارت تعلیم سے منسلک کرنا موجودہ حکومت کا قابل تحسین عمل ہے، حکومت کے مثبت اقدام کی توثیق اور غیر شرعی اور غیر آئینی اقدامات کا محاسبہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عیدالاضحی کے موقع پر مدارس و مساجد کیلئے قربانی کی کھالیں جمع کرنے کیلئے این او سی میں سہولتیں پیدا کرے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس و مساجد کسی بھی انتشار اور فتنہ پھیلانے والی تحریک کا حصہ نہیں اور نہ ہی مدارس کوئی سیاسی ایجنڈہ رکھتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 806621
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب