0
Friday 26 Jul 2019 17:28

سرحدوں پر دراندازی میں تیزی سے گراوٹ آئی، جنرل راوت

سرحدوں پر دراندازی میں تیزی سے گراوٹ آئی، جنرل راوت
اسلام ٹائمز۔ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے کہا کہ پاکستان 20 سال قبل کرگل جنگ میں ہزیمانہ شکست کے بعد بھارتی فورسز کو چیلنج کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پلوامہ حملے کے حوالے سے ہمیں سچائی کا علم ہے اس لئے مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ دراس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندگان سے بات کرتے ہوئے بپن راوت کا کہنا تھا کہ پاکستان شکست کے بعد مستقبل میں کرگل جیسی جنگ کی ہمت کے بارے میں نہیں سوچے گا اور ہمیں اس پر تمام سطحوں پر برتری حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرگل جنگ کے بعد مسلح فورسز کے سرویلنس نظام میں بہتری لائی گئی ہے۔

بپن راوت نے کہا کہ 1999ء میں انہوں نے بھارت کی مضبوط سیاسی خواہش کا نہیں سراہا لیکن آج ہمارے پاس بہتر سرویلنس نظام ہے اور ہم اس اونچائی پر ہیں جہاں پاکستان پہنچنے کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتا ہے۔ فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات کا یقین نہیں ہے کہ پاکستان پھر سے ایسا کرنے کی کوشش کرے گا لیکن اس بات کا یقین ہے کہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو ہم ایک اور کامیابی کے لئے تیار ہیں۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر دراندازی میں تیزی سے گراوٹ آئی ہے جس کی وجہ فوج کا انتہائی الرٹ رہنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دراندازی میں کمی کی دو وجوہات ہیں، ایک قابض فورسز کا الرٹ رہنا اور دوسرا ہماری طرف سے دراندازی روکنے کے لئے اضافی فورسز تعینات کرنا، سرحد کے اس پار پاکستانی آرمی اور جنگجوؤں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر وہ حدمتارکہ کے نزدیک آتے ہیں تو ان کی نعشیں ہی واپس جائیں گی۔

جنرل بپن راوت نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے بیان پر شدید ردعمل ظاہر کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پلوامہ حملے میں پاکستان کا کوئی رول نہیں۔ بپن راوت نے کہا کہ ہم سچائی کے بارے میں جانتے ہیں، اس لئے ہمیں بیان دینے کی ضرورت نہیں، ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں نے پلوامہ حملے پر ٹھوس ثبوت دیئے ہیں اور یہی سب ہے جو وہ کہنا چاہیں گے۔ قبل ازیں انہوں نے کرگل جنگ کے دوران مارے گئے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ان کے ہمراہ دیگر افسران بھی تھے۔
خبر کا کوڈ : 807130
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب