0
Friday 26 Jul 2019 19:49

یمن جنگ کا نقشہ تبدیل ہونا شروع، ہزاروں اماراتی فوجی واپس

یمن جنگ کا نقشہ تبدیل ہونا شروع، ہزاروں اماراتی فوجی واپس
اسلام ٹائمز۔ یمن کو فتح کرنے کیلئے سعودی سرپرستی میں بنائے گئے فوجی اتحاد کا شیرازہ بکھرنے لگا۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق تقریباً ساٹھ سے ستر فیصد اماراتی فوج یمن جنگ چھوڑ کر اور اتحادی افواج سے علیحدگی اختیار کرکے وطن واپس جا چکی ہے۔ تاہم سعودی عرب نے عرب امارات کے اس فیصلے پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔ لیکن اس فیصلے سے یمن کی لڑائی میں دونوں قریبی خلیجی اتحادیوں کی سوچ میں فرق نظر آتا ہے۔ متحدہ عرب امارات سعودی اتحادی افواج کا اہم اتحادی ہے، جس کی فوج سے علیحدگی کے بعد یمن جنگ میں سعودی عرب کو نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کا متحدہ عرب امارات اہم رکن ہے اور یمن کی پانچ سالہ لڑائی میں پیش پیش رہا ہے۔ البتہ اماراتی حکام کا یہ اقدام سعودی فوجی اتحاد کو ممکنہ طور پر کمزور کرسکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی تقریباً دس ہزار کے قریب فوج سعودی اتحادی افواج کے ساتھ مل کر یمن میں لڑ رہی تھی، اب خبروں کے مطابق ان میں سے ستر فیصد فوج واپس بلا لی گئی ہے۔ باقی ماندہ فوجیوں کو بھی فوری واپس بلانے کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ یمن سے اماراتی فوج کی واپسی کی خبریں جون کے آخر میں آنا شروع ہوئی تھیں، اس وقت متحدہ عرب امارات کے سینیئر سفارتی حکام نے موقف اختیار کیا تھا کہ فوجی دستوں کی نقل و حمل ہو رہی ہے اور جنوبی عدن اور یمن کے مغربی حصوں سے فوجیوں کی واپسی ہوئی ہے۔ عرب امارات گذشتہ چار سال سے یمن جنگ میں سعودی عرب کا اہم اتحادی رہا، لیکن صورتحال اس وقت تبدیل ہونا شروع ہوئی، جب پہلے مرحلے میں یمن کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اندر اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

گذشتہ سال جولائی اور اگست میں دو مرتبہ یمنی ڈرون نے دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا تھا۔ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے صماد تین ڈرون کے ذریعے دبئی ایئر پورٹ کو نشانہ بنایا تھا۔ حملے کے نتیجے میں پچانوے فیصد پروازیں تاخیر کا شکار ہوئی تھیں۔ دور مار میزائلوں اور ڈرون کے ذریعے حملوں سے سعودی اتحاد میں شامل عرب امارات کے اوسان خطا ہونا شروع ہوئے۔ اسی دوران سعودی آرامکو کمپنی کی آئل ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ سعودی اعتراف کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی تھی۔ بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون کے ذریعے کامیاب حملوں کے بعد یمن جنگ کا نقشہ تبدیل ہونا شروع ہوا۔ یہی وجہ تھی کہ گذشتہ ماہ سعودی اتحاد سے عرب امارات کی علیحدگی کی خبریں آنا شروع ہوئیں۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق ہزاروں اماراتی فوجیوں کو واپس بلا لیا گیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 807251
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب