0
Sunday 28 Jul 2019 06:40

امریکی صدر کی ثالثی کی پیشکش پر غور کرنے کے لیے پاکستانی اور کشمیری قائدین نے سر جوڑ لیے

امریکی صدر کی ثالثی کی پیشکش پر غور کرنے کے لیے پاکستانی اور کشمیری قائدین نے سر جوڑ لیے
اسلام ٹائمز۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام، سینٹ میں خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے نمائندگان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کے اس موقف کی فتح قرار دیا کہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے جسے صرف سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جا سکتا ہے۔ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے مختلف سیاسی اور سفارتی کوششوں کا جائزہ لینے کی غرض سے آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کی طرف سے بلائے گئے اجلاس میں شریک ان قائدین نے برطانوی دارالامرا کے رکن لارڈ قربان حسین کی ان کی کوششوں کو بھی سراہا جو وہ کشمیر کاز کو اُجاگر کرنے اور کشمیری عوام کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کر رہے ہیں۔ اجلاس میں شریک بعض رہنماؤں نے امریکی صدر کی ثالثی کی پیش کش پر کسی قسم کا ردعمل دینے میں احتیاط سے کام لینے کا مشورہ دیا جبکہ دوسروں کی رائے تھی کہ ہمیں اس پیشکش کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ اس موقع پر کشمیری قیادت کی رائے تھی کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر زیر بحث لانے کے لیے جو نئی سیاسی گنجائش پیدا ہوئی ہے ہمیں اسے مذید وسعت دینی چاہیے تاکہ اس دیرینہ مسئلہ کو پرامن سیاسی ذرائع سے حل کیا جا سکے۔

ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت اور پارلیمنٹ میں موجود سخت گیر رویہ رکھنے والے اور ہندو انتہا پسند تنظیموں کو اس بات کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے کہ وہ کسی تیسرے فریق کی ثالثی کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے سفارتی حل کی کوششوں کو سبوتاژ کریں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت کو اس بات پر راغب کیا جائے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ بند کر کے مسئلہ کشمیر کو پرامن سیاسی ذرائع سے حل کرنے کی عالمی کوششوں کا حصہ بنے۔ اجلاس کے شرکاء نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کو تقویت دینے اور اسے صحیح تناظر میں اُجاگر کرنے کے لیے وسیع تر ایجنڈہ پر کام کرنے کی ضرورت پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام طویل عرصے سے مصائب کی بھٹی کا ایندھن بنے ہوئے ہیں اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کشمیر سے متعلق قراردادوں کو عالمی اداروں میں اُٹھا کر کشمیریوں کی خواہشات اور اُمنگوں کے مطابق اس تنازعہ کا سیاسی اور جمہوری حل تلاش کیا جائے۔ اجلاس کے شرکاء کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ مذاکرات کی طویل تاریخ گواہ ہے کہ ایسے مذاکرات تنازعہ کشمیر کے حل میں ممدومعاون ثابت نہیں ہو سکتے کیونکہ بھارت ایسے مذاکرات کی آڑ میں کشمیریوں اور اقوام متحدہ کو اس سارے عمل سے باہر کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اس مسئلہ کا بنیادی اور اہم فریق یعنی کشمیریوں کے مفاد میں نہیں ہے۔
خبر کا کوڈ : 807489
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب