0
Tuesday 30 Jul 2019 07:42

دفعہ 35 اے پر پائے جارہے تذبذب اور افراتفری کے عالم نے لوگوں کو بے چین کردیا

دفعہ 35 اے پر پائے جارہے تذبذب اور افراتفری کے عالم نے لوگوں کو بے چین کردیا
اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ کشمیر میں عید قربان کے بعد آئین کی دفعہ 35 اے پر پائے جارہے تذبذب اور افراتفری کے عالم نے لوگوں کو بے چین کر رکھا ہے۔ طرح طرح کی قیاس آرائیوں اور افواہوں کی گرم بازاری سے سراسیمگی کا جو ماحول پیدا ہوا ہے، اس سے عام لوگوں کے مصائب اور مشکلات دو چند ہونے لگے ہیں اوپر سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے حکم نامے لوگوں میں مزید تناﺅ اور کشیدگی کا ماحول پیدا کررہے ہیں۔ اس دوران پیر کو مساجد اور ان کے منتظمین کی فہرست تیار کرنے سے متعلق تازہ حکم نامہ نے اس کشیدگی کو مزید سنسنی خیز بنا دیا ہے۔

بھارت میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت کمار ڈول کی جانب سے ان کے خفیہ سرینگر دورے کے فوراً بعد کشمیر میں دس ہزار اضافی فوجیوں کی تعیناتی سے پہلے سے ہی موجود ان اندیشوں کو ہوا ملی ہے کہ حکومت کوئی بڑا قدم اٹھانے جا رہی ہے جس کے بعد گذشتہ کئی روز سے س یہ افواہیں گشت کرتی رہیں کہ دفعہ 35 اے کو پندرہ اگست کے بعد ہٹایا جارہا ہے، جس کے ساتھ ہی قابض فورسز کی اضافی نفری کی تعیناتی کے بعد سوشل میڈیا پر ایسے آرڈرس وائرل ہورہے ہیں جس میں کہا جاتا ہے کہ کشمیر میں حالات بگڑنے والے ہیں، ایسے میں لوگ کم سے کم چار ماہ کے لئے راشن اکٹھا کرلیں اور دیگر اشیاء ضروریات بھی جمع کرنے کی بھی باتیں کی جارہی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 807790
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب