0
Monday 29 Jul 2019 11:13

برطانیہ کی جانب سے بحری قزاقی ایران کیلئے قابل قبول نہیں، سید محمد مرندی

برطانیہ کی جانب سے بحری قزاقی ایران کیلئے قابل قبول نہیں، سید محمد مرندی
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوری ایران کے سیاسی مسائل کے ماہر سید محمد مرندی نے کہا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے ایران کے آئل ٹینکر کو ضبط کرنا قابل برداشت نہیں تھا۔ فارس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سیاسی مسائل کے ماہر کا کہنا تھا کہ یہ بہت ضروری ہوگیا تھا کہ ایران بھی برطانوی آئل ٹینکر کو ضبط کرے، تاکہ برطانیہ کو بھی پتہ چل سکے کہ ایران جیسے ملک کے لئے بحری قزاقی ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ زمانہ چلا گیا جب مغربی ممالک کو خصوصی اختیارات اور حقوق حاصل تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانون اور امریکی حکومت کو ایرانی عوام کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیئے اور ایران کی جانب سے برطانوی آئل ٹینکر کو ضبط کرنے کا اقدام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

سیاسی مسائل کے ماہر نے ایران کی جانب سے اپنی فضائی حدود میں امریکہ کے 200 میلن قیمت والے ڈرون کو گرانے اور اسی طرح برطانیہ کے آئل ٹینکر کو ضبط کرنے کے اقدام کو ایک اہم پیغام کا حامل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر برطانیہ اور امریکہ چاہتے ہیں کہ یہ بحران ختم ہو تو وہ ہمارے ساتھ موجود اپنے مسائل کو حل کریں، تاکہ ہم بھی ان کے اقدامات کی روشنی میں موجودہ ٹینشن کو کم کرنے کے لئے ان کے آئل ٹینکر کو چھوڑ دیں۔ سید محمد مرندی نے برطانوی کشتی کو ضبط کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک کو عقب نشینی پر مجبور کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ پوری طاقت کے ساتھ انکے ڈومور کے مطالبات، وعدہ خلافیوں اور جارحیت کے خلاف کھڑے ہو جائیں اور اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو وہ اپنے موجودہ اقدامات کو جاری رکھیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہم برطانوی کشتی کو ضبط نہیں کرتے تو وہ اسوقت تک ہماری کئی کشتیوں کو بحری قزاقی کا شکار کرچکے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی معاہدے، خطے اور اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے بھی معقول رستہ یہ ہے کہ ہمیں مغربی ممالک کو متوجہ کرنا ہے کہ ہم پوری طاقت کے ساتھ ان کے مقابلے میں کھڑے ہیں اور ان کے مختلف مفادات کو اپنا نشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے تاکید کی کہ مغربی ممالک کو اب اپنی پالیسیاں تبدیل کرنا ہونگی۔ سید محمد مرندی نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا آپشن بہت مضر اور نقصاندہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک امریکہ اپنی پالیسی کو مکمل طور پر تبدیل اور عاقلانہ رویئے کا مظاہرہ نہیں کرتا، اس سے مذاکرات کرنا حماقت ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 807973
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب