0
Saturday 3 Aug 2019 00:39

سعودی عرب کا اسرائیل سے قدرتی گیس خریدنے پر غور، بین الاقوامی میڈیا

سعودی عرب کا اسرائیل سے قدرتی گیس خریدنے پر غور، بین الاقوامی میڈیا
اسلام ٹائمز۔ غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کے ایک سابق سینیٹر "ایوب کارا" نے اپنے ایک بیان میں تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اسرائیل سے قدرتی گیس درآمد کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ بین الاقوامی نیوز ایجنسی "بلومبرگ" کے مطابق اسرائیلی کنسٹ (پارلیمنٹ) کے سابق رکن "ایوب کارا" جو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے انتہائی قریبی سمجھے جاتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب نے اسرائیلی شہر "ایلات" سے سعودی عرب کے لئے ایک نئی گیس پائپ لائن بچھانے کے منصوبے پر گفتگو مکمل کر لی ہے جبکہ سعودی عرب اسرائیل سے قدرتی گیس درآمد کرنے کے اس منصوبے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان مستقبل میں طے پانے والا توانائی کا یہ بڑا منصوبہ دونوں ملکوں کے درمیان معمول کے سفارتی تعلقات پر موقوف ہے، جبکہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان معمول کے سفارتی تعلقات نہ صرف خطے میں مختلف قسم کے سیاسی ردعمل کا موجب بنیں گے، بلکہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک اور خصوصاً اسرائیل کی طرف سے فلسطین کے مغربی کنارے کے مسلسل محاصرے اور اسرائیل کے خلاف عرب دنیا میں پائی جانے والی نفرت کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بھی بنیں گے۔

امریکی نیوز ایجنسی "بلومبرگ" نے ایران کے خلاف سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان پائے جانے والے خفیہ اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والے اس خفیہ اتحاد کو طشت از بام کرنا بھی انتہائی مشکل کام ہوگا۔ اس نیوز ایجنسی نے لکھا کہ سابق اسرائیلی سینیٹر "ایوب کارا" عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے نزدیک ترین مشیروں میں سے ایک ہیں، جو گذشتہ سال کھلے بندوں خلیج فارس کے ایک عرب ملک میں بھی دیکھے گئے تھے اور جب ان سے اس حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد کے حصول کی خاطر یہ دورہ کیا ہے۔ بلومبرگ کا کہنا ہے کہ اسرائیل سعودی عرب کو اپنی انرجی کی نئی صنعت کا پارٹنر سمجھتا ہے، جبکہ سعودی عرب نے بھی آئندہ سال قدرتی گیس کے اس اسرائیلی منصوبے میں 150 بلین ڈالرز سے زیادہ کی سرمایہ گذاری کرنے کا ارادہ کر رکھا ہے، تاکہ سعودی عرب میں سستی بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے پالیسی ساز اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے معمول کے تعلقات کو اپنے ملکی مفادات کے ساتھ سازگار ایک عام سا مسئلہ سمجھتے ہیں، جبکہ بہت سے دوسرے اس مسئلے کے شدید مخالف ہیں، حتی گذشتہ سال جب اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے معمول کے تعلقات استوار کرنے کی باتیں عام تھیں، خلیج فارس کے عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں عرب شہریوں نے انٹرنیٹ پر اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کے خلاف مختلف قسم کی کمپینز چلا کر اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانے کے ہر قسم کے اقدام کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
خبر کا کوڈ : 808548
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب