0
Saturday 3 Aug 2019 13:03

ٹرمپ سے ملاقات کی دعوت، جواد ظریف نے ٹھکرا دی!

ٹرمپ سے ملاقات کی دعوت، جواد ظریف نے ٹھکرا دی!
اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار "نیویارکر" نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے گذشتہ ماہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے ملاقات کے دوران انہیں امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کرنے کی باقاعدہ دعوت دی تھی، تاکہ وہ سفارتی گفتگو کی غرض سے وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں۔ نیویارکر کے خبرنگار "رابن رائٹ" کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو امریکی وائٹ ہاؤس میں باقاعدہ دعوت دی گئی تھی، لیکن انہوں نے تہران کے ساتھ صلاح مشورے کے بعد اس دعوت کو ٹھکرا دیا۔ واضح رہے کہ گذشتہ ماہ جب ایرانی وزیر خارجہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے نیویارک میں موجود تھے تو امریکی سینیٹر رینڈ پال نے وائٹ ہاؤس اور امریکی وزارت خارجہ کے مشورے سے ایرانی جوہری تنصیبات کے بارے میں اُن کے ساتھ گفتگو شروع کرنے کی غرض سے اپنے ایک نمائندے کو اُن کے پاس بھیجا تھا، جس کے جواب میں انہوں نے گفتگو کی پیشکش کو قبول کر لیا تھا۔


تفصیلات کے مطابق 15 جولائی کے روز رینڈ پال اور ان کے سینیئر مشیر "ڈاگ اسٹافرڈ" اقوام متحدہ میں ایرانی نمائندے کی رہائش گاہ پر ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے ملاقات کے لئے گئے جبکہ رینڈ پال اور جواد ظریف کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔ آگاہ ذرائع کے مطابق انہوں نے ایرانی جوہری پروگرام سمیت خلیج فارس میں رونما ہونے والے تناؤ پر معمول کے مطابق گفتگو کی، جبکہ رینڈ پال کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ معاملات کی گہرائی تک پہنچ کر ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ حد تک ایک اعلیٰ سطحی سفارتی چینل وضع کریں۔ نیویارکر کے دعوے کے مطابق اس ایک گھنٹے کی گفتگو کے دوران ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جوہری معاملات میں بند گلی کی سی کیفیت کو ختم کرنے کے لئے رینڈ پال کے سامنے متعدد پیشکشیں رکھی تھیں، جن کے جواب میں رینڈ پال نے جواد ظریف کو یہ پیشکش دی کہ وہ ذاتی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کرکے انہیں اپنے خیالات سے آگاہ کریں۔

ایرانی اور امریکی سفارتی ذرائع کے مطابق سینیٹر رینڈ پال نے کہا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے انہیں اختیار دے رکھا ہے کہ (ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو) اس ہفتے کے دوران وائٹ ہاؤس میں موجود امریکی صدارتی دفتر میں مدعو کروں جبکہ اس بارے میں جب وائٹ ہاؤس کے ترجمان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کسی قسم کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ امریکی اخبار میں چھپنے والی اس رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکی صدر سے ملاقات کی دعوت کے جواب میں کہا تھا کہ اس حوالے سے فیصلے کا اختیار ان کے پاس نہیں اور وہ تہران کے ساتھ صلاح مشورے کے بعد اس پیشکش کا جواب دیں گے۔ ذرائع کے مطابق محمد جواد ظریف اس بات سے پریشان تھے کہ یہ اعلیٰ سطحی ملاقات سرسری اور غیر اہم نہ ہو۔ ذرائع کے مطابق رینڈ پال سے ملاقات کے بعد محمد جواد ظریف نے تہران کے ساتھ اس پیشکش پر گفتگو کی جبکہ تہران نے اس ملاقات کی مخالفت کر دی۔

واضح رہے کہ امریکی میڈیا میں یہ دعویٰ ایک ایسے حال میں سامنے آیا ہے، جب ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے نیویارک کے دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے ساتھ نئے مذاکرات کرنے کی خواہش کے جواب میں کہا تھا کہ ہم اس سے قبل بھی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرچکے ہیں۔ امریکہ سے باہر کسی بھی شخص یا حکومت کے لئے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ وائٹ ہاؤس میں کون براجمان ہے، کیونکہ یہ امریکی عوام کے ساتھ مربوط ہے۔ تمام دنیا کے لئے جو چیز اہم ہے، وہ یہ کہ امریکی حکومت نے معاہدہ کیا ہے۔ ہم نے ایک امریکی حکومت کے ساتھ معاہدہ کیا تھا، جو اس وقت قانونی طور پر منتخب ہوئی تھی، جس کے بعد صدر ٹرمپ کو منتخب کر لیا گیا۔ امریکہ میں کوئی انقلاب تو نہیں آیا تھا بلکہ اس ملک میں جمہوری طور پر ایک تبدیلی آئی تھی، جس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم اپنے تمام معاملات کو نئے سرے سے طے کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ آپ تصور کریں کہ اگر امریکہ کے ساتھ ہر ملک کو ہر 4 یا 8 سال کے بعد اپنے تمامتر معاہدات کو از سر نو شروع کرنا پڑتا تو اس ملک کے ساتھ معمول کے تعلقات ناممکن ہو جاتے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک اور مقام پر بھی اپنی گفتگو کے دوران، جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کو آپ اپنی سفارتکاری کی شکست تسلیم نہیں کرتے؟ کہا تھا کہ نہیں! ایسی بات نہیں کیونکہ ہم نے اس سے قبل بھی امریکہ کے ساتھ مذاکرات انجام دیئے ہیں۔ مسئلہ مذاکرات نہ کرنا نہیں۔ مسئلہ (مسائل کے حل کی) کوشش نہ کرنا ہے۔ ہم نے کئی دن، کئی ماہ اور کئی سال مذاکرات میں صرف کر دیئے، ہم نے اپنی تمامتر کوششیں کیں کہ میں اور جان کیری ملاقات کا سلسلہ جاری رکھیں۔ ہم نے کوئی 2 صفحات پر مشتمل معاہدہ طے نہیں کیا بلکہ 150 صفحات پر مشتمل معاہدہ طے کیا، لیکن یہ معاہدہ بداعتمادی کی بنیاد پر طے پایا تھا، اسی لئے تو 150 صفحات پر مشتمل تھا، ورنہ اگر بداعتمادی کی فضا نہ ہوتی تو بس اتنا ہی کہہ دینا کافی تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا اور مسئلہ ختم ہو جاتا۔ ہم نے ایسا کوئی کام انجام نہیں دیا۔ ہم نے تو جوہری اسلحہ نہ بنانے اور امریکی پابندیاں اٹھائے جانے کے بارے میں ایک ایک تفصیل پر بحث کی۔ یہ باتیں میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں، کیونکہ جانتا ہوں کہ اس معاہدے کے ایک ایک لفظ کو لکھنے میں کتنی زحمات اٹھائی گئی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 808618
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب