0
Sunday 4 Aug 2019 08:03

متحدہ عرب امارات کا ایران سے یمن میں کی گئی اپنی خرابیوں کی اصلاح کا وعدہ

متحدہ عرب امارات کا ایران سے یمن میں کی گئی اپنی خرابیوں کی اصلاح کا وعدہ
اسلام ٹائمز۔ یمن کے جنوبی علاقے میں ابوظہبی کے تیار کردہ علیحدگی پسند اتحاد "جنوبی عبوری کونسل" (Southern Transitional Council) کے ایک اہم رکن نے اس خبر سے پردہ اٹھایا ہے کہ متحدہ عرب امارات ایران کے ساتھ طے پانے والی اپنی مفاہمت کے مطابق یمن کے جنوبی علاقے میں سیاسی اصلاحات لانے میں مصروف ہے۔ عرب نیوز ویب سائٹ "عربی 21" کے مطابق ایک یمنی مخبر نے اپنا نام فاش نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جنوبی یمن کے اہم فوجی و سیاسی سربراہ اور ابوظہبی کی حمایت یافتہ "جنوبی عبوری کونسل" کے اراکین متحدہ عرب امارات کے اس اصلاحی پلان کے اہداف میں شامل ہوں گے۔ اس ذریعے کے مطابق یہ نیا اصلاحی پلان یمن میں ابوظہبی کے موقف کی تازہ تبدیلی اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے ایران کو دیئے گئے وعدے کی بناء پر لاگو کیا جا رہا ہے۔

یمنی ذریعے کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایران کو وعدہ دیا ہے کہ وہ یمن کے جنوبی صوبوں میں موجود خراب سیاسی صورتحال کو جنگ سے پہلے کی حالت پر واپس لائے گا جبکہ 2017ء میں متحدہ عرب امارات اور ابوظہبی کی مدد سے تشکیل پانے والی "جنوبی عبوری کونسل" میں زور و شور سے دھڑے بندیاں جاری ہیں اور "عیدروس الزبید" (موجود چیئرمین) اور "احمد الملس" (موجودہ سیکرٹری جنرل) کے گروپس آپس میں بری طرح لڑ رہے ہیں۔ اس یمنی مخبر نے "احمد الملس" کے ساتھ چند روز قبل پیش آنے والے ٹریفک حادثے، جس میں گاڑی میں سوار 3 خبرنگار ہلاک ہوگئے تھے جبکہ خود "احمد الملس" زندہ بچ نکلے تھے، پر بھی اپنے شک کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حادثہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے ایران کو دیئے گئے وعدے کے نتیجے میں رونما ہوا ہے، کیونکہ جنوبی یمن میں متحدہ عرب امارات کی انٹیلیجنس کو برتری حاصل ہے اور وہ احمد الملس کے متعلق کسی بھی اطلاع کو باآسانی انصاراللہ تک پہنچا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ خلیج فارس میں تناؤ کی تازہ لہر اٹھنے اور ایران کے ابوظہبی سے جارح امریکی ڈرون طیارے کی میزبانی پر احتجاج کرنے کے بعد گذشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات کے کوسٹ گارڈز کے کمانڈر "حمد علی مصباح الاحبابی" نے اپنے وفد کے ہمراہ تہران کا دورہ کیا تھا، جس کے دوران انہوں نے ایرانی بارڈر سکیورٹی فورسز کے کمانڈر "قاسم رضایی" سے بھی ملاقات اور گفتگو کی تھی۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے متحدہ عرب امارات کی طرف سے 2013ء کے بعد ہونے والے ایران کے پہلے دورے کو دونوں ممالک کے لئے خوشحالی کا باعث اور خلیج فارس میں متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان سکیورٹی تعاون میں انتہائی ممد و معاون قرار دیا تھا، جبکہ بین الاقوامی تجزیہ نگاروں نے متحدہ عرب امارات کے اس اقدام کو ایرانی تنبیہات کے نتیجے میں ابوظہبی کے موقف میں آنے والی بنیادی تبدیلی اور ایران کے ساتھ اس کے نزدیک ہونے کی واضح علامت قرار دیا تھا۔
خبر کا کوڈ : 808771
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے