0
Monday 5 Aug 2019 01:13

کلین کراچی مہم کا آغاز، وفاق کا عید سے قبل شہر کے بڑے نالے صاف کرنے کا اعلان

کلین کراچی مہم کا آغاز، وفاق کا عید سے قبل شہر کے بڑے نالے صاف کرنے کا اعلان
اسلام ٹائمز۔ وفاقی حکومت اور بلدیہ عظمی کراچی کے اشتراک سے کلین کراچی مہم کا اتوار سے آغازکردیا گیا۔ وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ علی زیدی اور میئر کراچی وسیم اختر نے کے پی ٹی ہیڈ آفس میں ایک بڑے جلسہ عام میں اس کا افتتاح کیا اور اعلان کیا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ عید سے قبل بڑے نالے مکمل صاف ہوں۔ تقریب میں وفاقی وزیر آئی ٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی، ڈپٹی میئر کراچی سید ارشد حسن، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی، کراچی سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، سماجی کارکنان، سول سوسائٹی کے نمائندوں، کھلاڑیوں، فنکاروں اور بڑی تعداد میں خواتین و حضرات نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران کراچی کے ٹیکسز کی رقم دبئی منتقل ہوگئی اس لئے کراچی اور سندھ میں یہ رقم زمین پر لگی ہوئی نظر نہیں آتی، لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ صفائی تو روز کا مسئلہ ہے، آپ شہر صاف کرکے چھوڑ دیں گے تو بعد میں کیا ہوگا، ہم ایک مرتبہ شہر کو مکمل صاف کرکے بتانا چاہتے ہیں کہ کوشش کی جائے تو شہر صاف ہوسکتا ہے، میئر کراچی وسیم اختر، ان کی جماعت اور بلدیاتی منتخب قیادت کے تعاون کے بغیر یہ کام ممکن نہیں، اس لئے ہم مل کر کوشش کریں گے، ہماری نیت صاف ہے اس لئے اللہ کی مدد بھی حاصل ہوگی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایف ڈبلیو او کا تعاون رہے گا انکی مشینری اور انفرااسٹرکچر سے خاصی مدد ملے گی، 15 ہزار رضاکار، بلدیاتی اداروں، منتخب نمائندوں اور ممبران پارلیمنٹ مدد اور تعاون کریں گے جن کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے، ہم ان رضاکاروں کو ڈسٹرکٹ کی سطح پرتقسیم کریں گے۔

میئرکراچی وسیم اختر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت کے عدم تعاون کے باعث وفاقی حکومت سے تعاون کی درخواست کی، ہمیں اب سیاست نہیں کام کرنا ہوگا اگر اس میں سیاست شامل ہوئی تو نتائج صفر ہوںگے، گزشتہ دس برسوں میں صوبائی حکومت نے کراچی کو تباہ کیا، میں پوچھتا ہوں کہ کراچی سے جمع ہونے والے ٹیکسز کی رقم کہاں جاتی ہے؟ وزیراعلیٰ سندھ کراچی میں کچرا صاف کرنے کے چیئرمین بنے ہوئے ہیں، سارا کچرا شہر کے نالوں اور گلیوں میں جمع ہے، شہر کے جن اداروں پر یہ قابض ہیں وہ کام کیوں نہیں کرتے؟ ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں، پاکستان کی سو کالڈ جمہوری جماعتوں نے کبھی بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جو جمہوریت کی بنیاد ہے، سپریم کورٹ کی ہدایت پر بلدیاتی انتخابات کرائے گئے تو لوکل گورنمنٹ کے تمام اختیارات صوبائی حکومت نے اپنے پاس رکھ لئے، جمہوریت کی مضبوطی کا تقاضا ہے کہ اختیارات تیسرے درجے کی حکومت کو منتقل ہوں، بارشوں میں شہر کا برا حال تھا، میری ذمہ داری صرف نالے صاف کرنا ہے جو ایک ہفتہ قبل صاف کردیئے تھے، اسی وجہ سے کوئی نالہ اوور فلو نہیں ہوا، سڑکوں پر کچرا اور کچرے سے نالیاں چوک ہونے سے سڑکوں پر پانی کھڑا ہوا جس کی تمام تر ذمہ داری سندھ حکومت کی ہے، ماضی میں ہم سب سے بہت غلطیاں ہوئیں، انکو بھول جانے کا وقت ہے، سیاست کریں گے تو مسائل حل نہیں ہوسکتے۔
خبر کا کوڈ : 808920
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب