0
Wednesday 7 Aug 2019 22:42

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے معاملے پر مشاورت نہیں کی، امریکہ

بھارت نے  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے معاملے پر مشاورت نہیں کی، امریکہ
اسلام ٹائمز۔ امریکا نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق بھارتی میڈیا کی رپورٹس کو جھوٹا قرار دے دیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے سے قبل واشنگٹن کو مطلع کیا۔ جنوبی اور وسطیٰ ایشیائی امور کے امریکی ادارے (ایس سی اے) نے ٹوئٹ میں اپنے ردعمل کا اظہار کیا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق فیصلے پر امریکا کو اعتماد میں نہیں لیا۔ اس حوالے ٹوئٹ میں سے واضح کیا گیا کہ بھارتی میڈیا رپورٹس کے برعکس، نئی دہلی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے خصوصی حیثیت کو ختم کرنے سے پہلے مطلع نہیں کیا اور نہ ہی مشاورت کی۔ واضح رہے کہ امریکی نائب معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا ایلس ویلز کی اجازت سے مذکورہ ٹوئٹ جاری کیا گیا۔ اس ضمن میں این ڈی ٹی وی میں شائع رپورٹ کے مطابق نیوز ویب سائٹ دی پرنٹ نے 5 اگست کو دعویٰ کیا تھا کہ خارجی امور کے وزیر ایس جے شنکر نے اپنے امریکی ہم منصب امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کو مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے مطلع کیا تھا۔ دی پرنٹ نے ذرائع کا حوالہ دے کر دعویٰ کیا تھا کہ ایس جے سنگر نے مائیک پومپیو کو بنکاک میں آرٹیکل 370 کی منسوخی سے متعلق آگاہ کیا۔

اسی نیوز ویب سائٹ کے مطابق بعدازاں فروری میں قومی اسلامتی کے مشیر اجیت دوول نے اپنے امریکی ہم منصب جان بولٹن کو مقبوضہ کشمیر سے متعلق پیشگی مطلع کیا تھا۔ خیال رہے کہ پیر کو بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ایک صدارتی حکم کے ذریعے کشمیریوں سے وہ خصوصی حیثیت واپس لے لی تھی جو انہیں 7 دہائیوں سے ملی ہوئی تھی، اس کے علاوہ مقبوضہ وادی میں غیرمعینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کرکے منتخب رہنماؤں کو نظر بند کردیا گیا تھا۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے ختم ہونے سے پورے بھارت سے تعلق رکھنے والے لوگ اب مقبوضہ کشمیر میں جائیداد لے سکیں گے اور وہ وہاں مستقل طور پر رہائش اختیار کرسکیں گے۔ انسانی حقوق کے ادارے کی جانب سے کہا گیا کہ آرٹیکل 370 کا خاتمہ ریاست میں بدامنی اور بڑی سطح پر احتجاج کا باعث بن سکتا ہے، لیکن بھارتی حکومت کی جانب سے مظاہروں اور احتجاج کو بھاری طاقت سے روکنے کی حکمت عملی سے گزشتہ کچھ برسوں میں لوگوں کو اندھا کرنے، قتل کرنے اور تکلیف پہنچانے، جیسی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کی گئیں۔ ادارے کا یہ بھی کہنا تھا کہ جموں اور کشمیر میں ٹیلی کمیونکیشن سروسز کو غیرمعینہ مدت کے لیے معطل کرنا بھی بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار کے مطابق نہیں۔
خبر کا کوڈ : 809458
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب