0
Friday 9 Aug 2019 16:30

عراق بھی ایرانی تیل کے خریداروں میں شامل ہوگیا

عراق بھی ایرانی تیل کے خریداروں میں شامل ہوگیا
اسلام ٹائمز۔ تہران میں تعینات عراقی سفیر "سعد جواد قندیل" نے ایران کے ساتھ عراق کے تجارتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے بارے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر عائد امریکہ کی یکطرفہ پابندیاں دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات پر کوئی اثر نہیں رکھتیں، جبکہ ایران و عراق کے درمیان تجارت ہمیشہ کی طرح جاری و ساری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ عراق ایران پر عائد امریکی پابندیوں کو قبول نہیں کرتا، کیونکہ یہ پابندیاں بین الاقوامی تعلقات اور عالمی قوانین کے خلاف ہیں۔

ایران میں تعینات عراقی سفیر نے کہا کہ امریکہ ایک سال سے زیادہ کے عرصے سے ایران کے ساتھ کئے گئے اپنے جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر خارج ہوچکا ہے اور امریکی صدر نے ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر تک پہنچانے کے لئے ایران پر مزید سخت پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں، جبکہ ان پابندیوں کے لاگو ہونے کے باوجود ایران اپنے خام تیل کو کامیابی کے ساتھ برآمد کر رہا ہے۔ عراقی سفیر کا کہنا تھا کہ امریکی ناجائز پابندیوں کو غیر موثر بنانے کے لئے ایران اور عراق کے درمیان مذاکرات ہوچکے ہیں اور عنقریب ایران و عراق کے درمیان ہونے والی تجارت سے امریکی ڈالر کو حذف کرکے عراق دینار رائج کر دیا جائے گا۔

عراقی سفیر سعد جواد قندیل نے میڈیا کو بتایا کہ دونوں ممالک کے تجارتی و اقتصادی نمائندے مذکورہ بالا ہدف کو جلد از جلد حاصل کرنے کی بھرپور کوشش میں ہیں اور اسی مقصد کی خاطر دونوں ممالک کے درمیان بہت سے نئے تجارتی معاہدے بھی طے پانے والے ہیں، جن میں سے ایک دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے لین دین کا مالی معاہدہ ہے۔ عراقی سفیر نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران و عراق کے درمیان عنقریب طے پانے والا یہ مالی معاہدہ دونوں ہمسایہ و برادر ممالک کے درمیان موجود تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوگا۔

واضح رہے عراقی سفیر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب کچھ ہی عرصہ قبل ایرانی سٹاک ایکس چینج کے چیئرمین نے اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ عراقی سٹاک ایکس چینج کے چیئرمین، ان کے وفد اور عراقی سفیر کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی تھی، جس میں دونوں فریقوں نے دونوں ممالک کے درمیان Master Feeder Fund کی طرز پر "مشترکہ سرمایہ گذاری فنڈ" کی تشکیل پر اتفاق کیا گیا تھا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان برآمدات و درآمدات کا ایک خصوصی چینل اور سرمایہ گذاری کے ایک قانونی و تکنیکی مشاورتی ادارے کی تشکیل بھی اس مفاہمت میں شامل تھی۔
خبر کا کوڈ : 809751
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب