0
Sunday 11 Aug 2019 16:15

وزیراعلٰی مراد علی شاہ کی ممکنہ گرفتاری، حکومتِ سندھ بحران کا شکار

وزیراعلٰی مراد علی شاہ کی ممکنہ گرفتاری، حکومتِ سندھ بحران کا شکار
اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلٰی قیادت کے جیل منتقل ہونے اور وزیراعلٰی سندھ مراد علی شاہ کی ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر پارٹی نے سندھ کی صوبائی حکومت کو بچانے کے لئے کوششیں تیز کردی ہیں۔ خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سید مراد علی شاہ کے خلاف جعلی اکاؤنٹ کیس اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کررہی ہے، جس کے باعث انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس ساری صورتحال میں پی پی پی کوشش کررہی ہے کہ ایسے قانون سازوں کو وزیر نہ بنایا جائے، جن کے حوالے سے ناگواری (وہ کسی کیس میں نامزد ہیں) ظاہر کی جا رہی ہے اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ کی صوبائی کابینہ میں حالیہ تبدیلی کی گئی ہے، اس کے علاوہ وہ 'مقتدر حلقوں' سے بھی رابطے میں ہیں تاکہ انہیں یہ بتایا جائے کہ وہ کسی سے بھی محاذ آرائی نہیں چاہتئے۔ پی پی پی نے مقتدر حلقوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور نیب کی مخالفت کرنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ ان کی مخالفت کی جارہی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کو فوری طور پر شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے حوالے سے کسی قسم کے ریلیف کی توقع نہیں، لیکن اس وقت پارٹی کی پوری توجہ حکومت سندھ کو درپیش چلینجز پر لگی ہوئی ہیں، جہاں وہ گذشتہ 11 سال سے اقتدار میں ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ کچھ حلقے مراد علی شاہ سے خوش نہیں، پی پی پی کو انہیں تبدیل کرنے کے متعدد مواقع میسر آئے، لیکن پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوں معلوم ہورہا ہے کہ سندھ حکومت کو بچانے کے لئے اب پارٹی کی قیادت مراد علی شاہ کی قربانی دینے کو بھی تیار ہوگئی ہے لیکن بظاہر اس میں اسٹیبلشمنٹ کی دلچسپی نہیں۔
خبر کا کوڈ : 810094
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب