0
Tuesday 13 Aug 2019 18:49

یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ کشمیر کو آزاد کروایا جائے، اعجاز ہاشمی

یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ کشمیر کو آزاد کروایا جائے، اعجاز ہاشمی
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی صدر پیر اعجاز احمد ہاشمی نے کہا ہے کہ ملک میں قرآن و سنت کا نظام نافذ کئے بغیر آزادی کے مقاصد حاصل نہیں کئے جا سکتے، جمہوری اور سیاسی عمل جاری رہنا چاہیے۔ کشمیر، تقسیم برصغیر اور آزادی پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے، کشمیر پر کسی قسم کا سمجھوتہ کیا گیا تو تاریخ معاف نہیں کرے گی۔ یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ کشمیر کو آزاد کروایا جائے۔ تقریریں اور دعوے بہت ہو چکے، قوم کی خواہش ہے کہ اب فوج اور حکومت دونوں اپنی عملی ذمہ داریاں ادا کرکے کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنائیں۔ مودی کے یکطرفہ اقدام کے بعد پاکستان مسئلہ کشمیر میں فریق ہونے کے ناطے عملی اقدام کا حق رکھتا ہے اور کشمیری پاکستان کیساتھ ہیں۔

پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ یہی موقع ہے، ورنہ پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ 72ویں یوم آزادی پر پیغام میں پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ وطن عزیز بے پناہ قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا، مگر آنیوالے حکمرانوں نے اس کے قیام کے مقاصد کو بھلا دیا۔ ہندووں کا متعصبانہ رویہ، قیام پاکستان کا باعث بنا۔ قوم کو دو قومی نظریہ بتانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ نئی نسل جان سکے کہ برصغیر میں ہندووں نے مسلمانوں کاجینا دو بھر کردیا تھا، جو اکثریت کے بل بوتے پر خود کو اعلیٰ نسل سمجھتے اور باقی مذاہب کے پیروکاروں، خصوصاً مسلمانوں سے نفرت کرتے تھے۔ نفرت کی انتہا یہ تھی کہ ٹرینوں میں پانی بھی ہندو اور مسلمانوں کے لئے علیحدہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے مسلمانان برصغیر میں آزادی کی ایسی شمع روشن کی کہ 1940ءکی قرارداد پاکستان کے بعد صرف 7۔ سال کی محنت سے علیحدہ وطن حاصل کرلیا گیا ، جو کہ آج ایٹمی قوت اور عالم اسلام کا فخر ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ دہشتگردی، فرقہ واریت، کفر اور شرک کے فتووں نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا۔ پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ قائداعظم کی قیادت میں سب متحد تھے، مگر آج سیاسی، مذہبی جماعتوں میں نااتفاقی کے باعث حالات خراب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے، اسلامی نظام کے نفاذ کے مطالبے کا مطلب اقلیتوں سے نفرت نہیں۔ دین محمدی انسانیت کا احترام سکھاتا ہے۔ مگر افسوس یہاں سرمایہ دارانہ نظام نے یہودی مفادات کا تحفظ کیا اور نظام مصطفی کے نفاذ کی جدوجہد کا راستہ روکنے کی کوششیں کی گئیں، اسی لئے عوام حقیقی آزادی کے ثمرات سے مستفید نہیں ہو سکے۔
خبر کا کوڈ : 810117
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب