0
Monday 12 Aug 2019 20:53

جانی نقصان پر عوام سے معافی مانگتے ہیں، معلوم نہیں میئر کراچی کس کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں، سعید غنی

جانی نقصان پر عوام سے معافی مانگتے ہیں، معلوم نہیں میئر کراچی کس کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں، سعید غنی
اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز  پارٹی کے سینئر رہنما اور صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ جانی نقصان پر ہم عوام سے معافی مانگتے ہیں، کے الیکٹرک کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، یوسف گوٹھ میں سندھ حکومت اور آرمی کے جوان کام کررہےہیں، جب تک نالے خالی نہیں ہوں گے نشیبی علاقوں سے پانی نہیں نکلے گا، حیرت ہے کہ میئر کراچی کہتے ہیں کہ سندھ حکومت نے کام نہیں کیا، معلوم نہیں کہ میئر کراچی کس کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں؟۔ نجی ٹی وی کے مطابق کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے  ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ بہت کم وقت میں سڑکوں سے بارش کا پانی ہٹایا گیا ہے، سندھ حکومت کے  پاس سوئیپر نہیں، یہ کام کے ایم سیز اور ڈی ایم سیز کا ہے، ڈی ایم سی اور کے ایم سی کے ملازمین نے بہت کام کیا ہے، پاک فوج کے جوانوں  نے بھی جہاں جہاں ضرورت تھی وہاں کام کیا، واٹر بورڈ کے عملے نے بھی بہت محنت کی۔ انہوں نے کہا کہ کرنٹ لگنے سے بہت زیادہ اموات ہوئی ہیں جس کا اُنہیں بہت دکھ ہے، کے الیکٹرک کے خلاف متاثرہ خاندان کارروائی کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ ہیں، میں نے ایف آئی آرز  درج کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں 200 ملی میٹر بارش تقریباً 15 سال بعد ہوئی ہے، 200 ملی میٹر بارش کے بعد بہت کم وقت میں سڑکوں کو صاف کردیا ہے، آج  میں نے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے نکاسی آب کے انتظامات کا جائزہ لیا ہے، جو سڑکیں پانی میں ڈوبی تھیں ان کو صاف کیا ہے، پی ای سی ایچ ایس میں ابھی تک پانی موجود ہے، شہر کو صاف کرنا کے ایم سی اور ڈی ایم سی کی ذمہ داری ہے، نالے بھرے ہوں تو نشیبی علاقوں سے پانی نہیں نکلتا، علی زیدی نے کل خود دیکھا کہ نالوں سے بوریاں نکل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میئر کراچی اپنے لوگوں کے کام کی تعریف کریں مگر وہ سندھ حکومت پر تنقید کررہے ہیں، حیرت ہے کہ میئر کراچی کہتے ہیں کہ سندھ حکومت نے کام  نہیں کیا، معلوم نہیں کہ میئر کراچی کس کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں؟۔ سعید غنی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ٹوئیٹ یہ لکھتے کہ کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی کریں گے، کئی مرتبہ بتا چکے ہیں کہ کے الیکڑک  ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے۔
خبر کا کوڈ : 810242
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے