0
Tuesday 13 Aug 2019 03:06
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں کے درمیان شدید جھڑپیں

یمن کے صوبے عدن میں سعودیہ-امارات پراکسی وار میں 40 عسکریت پسند ہلاک

یمن کے صوبے عدن میں سعودیہ-امارات پراکسی وار میں 40 عسکریت پسند ہلاک
اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق یمن کے جنوبی صوبے عدن میں متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند تنظیم جنوبی عبوری کونسل (Southern Transitional Council) اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ سابقہ مستعفی حکومت کے حامیوں کے درمیان سابقہ صدارتی محل "المعاشیق" کے اردگرد ہونے والی شدید جھڑپوں میں اب تک 300 سے زائد جنگجو ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ یمن کے جنوبی علاقوں میں لڑائی کا آغاز تب ہوا، جب وہاں کی علیحدگی پسند تنظیم جنوبی عبوری کونسل کے نائب چیئرمین "ہانی بن بریک" نے اپنی فوجوں کو "المعاشیق" نامی صدارتی محل پر قبضہ کرنے کا حکم دے دیا، جو سعودی عرب کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے قبضے میں تھا جبکہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے درمیان گذشتہ چند روز سے ہونے والی شدید جھڑپوں کے بعد اب صدارتی محل کے ساتھ ساتھ عدن کے پورے صوبے پر علیحدگی پسند تنظیم جنوبی عبوری حکومت کا قبضہ ہوچکا ہے۔

دوسری طرف عدن سے سعودی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے نکال باہر کرنے کے بعد سعودی عرب جس کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ اتحاد اب ختم ہوچکا ہے، نے جنوبی عبوری کونسل کے ٹھکانوں پر ہوائی بمباری کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عقب نشینی کرکے اپنے سابقہ علاقوں میں واپس چلے جائیں، البتہ کہا یہ جا رہا ہے کہ جنوبی عبوری کونسل نے بعض علاقوں سے عقب نشینی اختیار کر لی ہے، لیکن اب بھی عدن کے پورے صوبے پر انہی کا کنٹرول باقی ہے۔ ریاض جنوبی عبوری کونسل کے ٹھکانوں پر ہوائی حملوں کے ساتھ ساتھ ان سے یہ مطالبہ بھی کر رہا ہے کہ وہ سعودی عرب میں حاضر ہو کر یمن کی سابقہ مستعفی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھیں جبکہ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی عبوری کونسل کے نائب چیئرمین "ہانی بن بریک" نے سعودی عرب کی یہ پیشکش قبول بھی کر لی ہے اور اسی وجہ سے جنوبی یمن میں حالات اب قدرے بہتر ہوگئے ہیں اور دونوں فریقوں کے درمیان جھڑپوں کی شدت میں کمی آگئی ہے۔

البتہ ایسا ہوتا نظر نہیں آتا کہ متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل کے مسلح جنگجو اتنی آسانی کے ساتھ یمن کے صوبہ عدن سے ہاتھ اٹھا لیں اور پورا صوبہ یمن کی سابقہ مستعفی حکومت کو پیش کر دیں، کیونکہ جب یہ کونسل مئی 2017ء میں متحدہ عرب امارات کی حمایت کے ساتھ وجود میں آئی تھی اور اس کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد جنوبی یمن کو شمالی یمن سے جدا کرنا تھا اور اسکے اُس وقت کے چیئرمین "عیدروس الزبیدی" جو سابقہ مستعفی حکومت میں صوبہ عدن کے گورنر تھے، متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر جدائی طلب منصوبوں آگے بڑھا رہے تھے تو یمن کی سابقہ مستعفی حکومت کے ساتھ ان کے اختلافات پیدا ہوگئے تھے، جسکی وجہ سے سابقہ مستعفی صدر منصور الہادی کی طرف سے جنوبی عبوری کونسل کے چیئرمین "عیدروس الزبیدی" کو معزول کر دیا گیا تھا، جس کے بعد سے جنوبی عبوری کونسل کے سابقہ مستعفی حکومت کے ساتھ اختلافات میں شدت آگئی تھی اور عدن ایک عرصے تک سابقہ مستعفی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے درمیان سیاسی و فوجی کشمکش کا میدان بنا رہا تھا۔
خبر کا کوڈ : 810248
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب