0
Tuesday 13 Aug 2019 05:24

عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی غیر قانونی ہے، عراقی پارلیمنٹیرین

عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی غیر قانونی ہے، عراقی پارلیمنٹیرین
اسلام ٹائمز۔ عراقی پارلیمنٹ کے رکن اور عراقی فوجی و سیاسی امور کے ماہر نے ٹی وی پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی سرزمین پر امریکی فوجیوں کی موجودگی غیر قانونی اور عراقی سکیورٹی کے لئے ایک بہت بڑا رسک ہے۔ عراقی حکام کیلئے عراقی عوامی فورسز کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں جبکہ کرکوک کے جنوبی علاقے آمرلی میں عراقی عوامی فورسز کے ایک مرکز کو نشانہ بنانا اس کی ایک واضح مثال ہے، تاہم اس واقعے پر ہونے والی تحقیقات نے تاحال اس حقیقت سے پردہ نہیں اٹھایا۔ بعض ماہرین کے مطابق عراقی صوبے کرکوک کے نواحی علاقے آمرلی میں عراقی عوامی فورسز کے مرکز پر حملے میں اسرائیل کا ہاتھ ہے، کیونکہ واشنگٹن اور تل ابیب عراقی فورسز کی بعض بریگیڈز کو عراق میں ایرانی اثرونفوذ کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، جبکہ عراقی عوامی فورسز کا اعتقاد ہے کہ امریکی و اسرائیلی حکومتیں خطے پر واشنگٹن اور تل ابیب کو مسلط کرنے کے لئے سرگرم ہیں۔

دوسری طرف عراقی پارلیمنٹ کے اراکین بھی عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کو عراق پر پڑنے والے منفی اثرات کا اصلی سبب دے چکے ہیں۔ عراقی پارلیمنٹ کے رکن "عدنان الاسدی" کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں عراق کے اندر امریکی فوجیوں کی موجودگی کی قانونی اعتبار سے کوئی توجیہ ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدوں میں سے کسی معاہدے میں امریکی فوجیوں کو عراق میں موجود رہنے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ عراق میں چند ایک امریکی فوجی مشیروں کی موجودگی کی اجازت دی گئی ہے، لہذا عراق میں موجود 20,000 امریکی "فوجی مشیر" نہیں بلکہ امریکہ کی فوج ہے، لہذا عراق میں ان کی موجودگی غیر قانونی ہے۔

واضح رہے کہ عراقی فوج کے کمانڈرز بارہا اس بات پر تاکید کرچکے ہیں عراقی عوامی فورسز کی قوت مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ امریکہ بھی عراق میں اپنی فوجی موجودگی کو مستحکم بناتا جا رہا ہے، کیونکہ وہ عراق میں موجود عوامی فورسز کے قیام کو امریکی و اسرائیلی مفادات کے خلاف قرار دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عراقی عوامی فورسز کے مراکز کو امریکہ و اسرائیل کی طرف سے نشانہ نہ بنائے جانے کی کوئی ضمانت موجود نہیں، خاص طور پر جب اسرائیل بھی بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ اسرائیل، عراق کی کسی بھی عوامی فورس کے مرکز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

عراق کے سیاسی امور کے ماہر "حسین الکنانی" کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی زیادہ تر سیاست عراقی عوامی فورسز کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ملکی سکیورٹی فورسز میں شامل نہ ہونے دینے کی پالیسی پر مشتمل ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ عراقی عوامی فورسز ختم ہو جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس عراقی عوامی فورسز کے مراکز کو نشانہ بنانے کا واحد بہانہ عراقی عوامی فورسز کے پاس بیلسٹک اور دور تک مار کرنے والے میزائلوں کی موجودگی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کے کسی بھی بہانے کے تحت عراقی سرزمین پر اسرائیل کی جارحیت کی صورت میں بغداد اور واشنگٹن کے درمیان استوار روابط یکسر بدل جائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 810251
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے