0
Wednesday 14 Aug 2019 20:16
علامہ اقبال نے فارسی کلام میں پاکستان کا بہترین نقشہ پیش کیا، علامہ جواد نقوی

لاہور، جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں یوم آزادی کی مناسبت سے شاندار تقریب

لاہور، جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں یوم آزادی کی مناسبت سے شاندار تقریب
اسلام ٹائمز۔ لاہور کی ممتاز دینی درسگاہ جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں جشن آزادی کی مناسبت سے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں علمائے کرام اور طلاب کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر طلباء نے پاکستان زندہ باد، کشمیر بنے گا پاکستان کے شعار بلند کئے۔ جامعہ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی کی خصوصی ہدایت پر جامعہ میں یوم آزادی کی مناسبت سے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب سے علمائے کرام نے خطاب کیا جبکہ طلباء کی جانب سے بھی خاکے اور ملی نغمے پیش کئے گئے۔ علمائے کرام کا کہنا تھا کہ وطن عزیز پاکستان کو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا مگر افسوس کہ ہر آنیوالے حکمران سے نئے نئے تجربات ہی کئے اور پاکستان آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں سے آزادی کے بعد سفر شروع ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ضیاءالحق کے نام نہاد اسلام نے بھی پاکستان کو نقصان پہنچایا اور مشرف کی روشنی خیالی بھی وطن کو لے ڈوبی۔ علمائے کرام کا کہنا تھا کہ جمہوری دور ہو یا آمرانہ، پاکستان کو نقصان ہی ہوا ہے، اس ملک میں حقیقی اسلام نظام کی ضرورت ہے جو اس ملک کو بحرانوں سے نجات دلا سکے۔

اس سے قبل علامہ سید جواد نقوی نے یوم آزادی کی مناسبت سے خطاب کرتے ہوئے ملت پاکستان کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یوم آزادی جشن کا موقع ہے مگر قوم سوگ  میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوم آزادی کے آس پاس ہی پاکستان میں ایسے واقعات ہو جاتے ہیں، جس سے ماحول سوگوار ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوم آزادی ایک ملت کیلئے کتنا عظیم دن ہوتا یہ خوددار قومیں ہی جانتی ہیں، ملت پاکستان آزادی کا درست چہرہ نہیں دیکھ سکی، پاکستان اگرچہ ملت کی قربانیوں سے معرض وجود میں آیا ہے مگر اس کے پیچھے ایک عمیق نظریہ کار  فرما ہے اور وہ علامہ محمد اقبالؒ کی فکر ہے جس میں پاکستان کے بطور اسلامی ریاست نظریہ پیش کیا گیا جس میں آئین الہی نافذ ہو اور مسلمان آئین اسلام کے زیرسایہ زندگی بسر کریں۔ انہوں نے کہا کہ ممالک کی تشکیل مختلف اسباب و محرکات کے تحت ہوتی ہے، کہیں قومیاتی اختلافات ہوتا ہے، جس میں قومی بنیاد پر دو قومیں علیحدہ ہو جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا، ہندوستان میں دو قومیں ہندو اور مسلمان آباد تھے، جن کے اختلافات کی وجہ سے دو ممالک بنے، وہ اسی دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہی بنے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کیلئے مشکلات تھیں، اکثریت ہندو تھے جن کی موجودگی میں مسلمان اقلیت تھے جن میں احساس محرومی جنم لینے لگا، اسی احساس کے تابع ہی پاکستان بنانے کا خیال آیا۔ انہوں نے کہا کہ دو قومی نظریہ پاکستان کی بنیاد نہیں تھا، بلکہ پہلے اسلام کیلئے سرزمین کی ضرورت کا تصور پیدا ہوا، جو علامہ اقبالؒ نے پیش کیا اور مشہور خطبہ آلہ آباد پیش کیا گیا جس مین علیحدہ ریاست کا تصور پیش کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ علامہ اقبالؒ کے افکار ان خطبات میں نہیں ہیں، جو کسی محفل میں علامہ کو دینے پڑتے تھے، بہت سے صدارتی خطبات دیئے، علمی شخصیت ہونے کے ناطے انہوں نے بہت سے خطابات بھی کئے، ان کے پاس عہدے بھی تھے، اس حیثیت سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ علامہ اقبال نے فارسی کلام میں پاکستان کا بہترین نقشہ پیش کیا۔ اور خود بھی فرمایا میرے کلام کی روح فارسی کلام ہے۔ جس میں انہوں نے پاکستان کے نظریہ کی وضاحت بھی کی اور ایک خاص اسلوب کے تحت اپنی فکر پیش کی جس میں ریاست کا نظام، حوادث، درپیش مشکلات کے حوالے سے تفصیلی بتایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے اسی کلام کو زندگی بھر کا حاصل قرار دیا ہے۔ جاوید نامہ بظاہر ان کے فرزند کے نام ہے لیکن اس میں بھی بہت سی معرفت کی باتیں ہیں۔ اس میں صرف بیٹے کے نام نہیں نظم یا کتاب نہیں کی بلکہ جاوید کے معنی کی طرف بھی اشارہ ہے۔ علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ علامہ کی فکر لازوال ہے۔
خبر کا کوڈ : 810518
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب