0
Wednesday 14 Aug 2019 21:17

ایل او سی پر اشتعال انگیزی، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی

ایل او سی پر اشتعال انگیزی، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی
اسلام ٹائمز۔ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے ایل او سی پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہری کی شہادت پر شدید احتجاج کیا گیا ہے۔ دفتر خارجہ کی  جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ ڈی جی ساؤتھ ایشیا و سارک ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے ایل او سی پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی اور گزشتہ روز بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہری کی شہادت پر شدید احتجاج کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ڈپٹی ہائی کمشنر کو مراسلہ بھی دیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی افواج نے گزشتہ روز ایل او سی کے تتہ پانی سیکٹر کی شہری آبادی پربلا اشتعال فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک شہری شہید ہو گیا، بھارتی افواج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں تیزی آئی ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بھارت دو سالوں میں 1970 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کر چکا ہے، بھارتی افواج لائن آف کنٹرول پر شہری آبادی کو بھاری اسلحہ سے نشانہ بنا رہی ہیں، شہری آبادی کو نشانہ بنانا انسانی عظمت، بین الاقوامی انسانی حقوق اور ہیومنٹیرین قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

بھارت کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی علاقائی امن و سلامتی کے لئے خطرہ ہے، اور بھارتی خلاف ورزیوں سے تزویراتی غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے۔ پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ 2003ء کی جنگ بندی مفاہمت کا احترام کرے، اپنی افواج کو جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کرے، لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر امن برقرار رکھے، اور اقوام متحدہ امن مشن کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کردار ادا کرنے دے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارتی فوج نے ایک بار پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف وزری کی، اورایک بار پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے تتہ پانی سیکٹر پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔  بھارتی فوج نے تتہ پانی سیکٹر کے گاؤں سہڑہ کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں شہری  38 سالہ شہید ہوگیا، جب کہ متعدد گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔
خبر کا کوڈ : 810531
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب