0
Wednesday 14 Aug 2019 17:43

شیخ ابراہیم زکزاکی کیساتھ انڈین حکومت کا رویہ ظالمانہ اور ناقابل قبول ہے، مسعود شجرہ

شیخ ابراہیم زکزاکی کیساتھ انڈین حکومت کا رویہ ظالمانہ اور ناقابل قبول ہے، مسعود شجرہ
اسلام ٹائمز۔ اسلامی انسانی حقوق لندن مرکز کے سربراہ مسعود شجرہ نے اپنے ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ میں نے شیخ ابراہیم زکزکی کے بارے میں بہت پریشان کن خبریں سنی ہیں، انڈیا کی گورنمنٹ نے انہیں دو گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے اور کہا ہے کہ یا تو وہ علاج کی موجودہ شرائط کو قبول کرلیں یا پھر نائیجیریا واپس چلیں جائیں۔ انہوں نے بھارت کے سکیورٹی اہلکاروں کے برے رویہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیخ ابراہیم زکزکی کی موجود علاج کی کیفیت بہت خراب ہے اور ان کے ساتھ مجرموں جیسا رویہ روا رکھا جا رہا ہے اور ان کے پاس بھی کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے کہ وہ کیسے اپنا علاج کروائیں۔ اسلامی انسان حقوق لندن کے سربراہ نے شیخ زکزاکی کے ساتھ ہونے والے برتاو کو غیر قابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈین گورنمنٹ نے انہیں دو گھنٹے کی مہلت دی کہ ان کے الٹی میٹم کا جواب دیں۔ مسعود شجرہ کا کہنا تھا کہ انڈین حکومت کا یہ رویہ بین الاقوامی، انسانی یا بھارت میں موجود انسانی حقوق کے معیار سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا اور یہ رویہ قطعاً قابل قبول نہیں ہے۔

مسعود شجرہ کا مزید کہنا تھا کہ وہ شخص جس نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا اور نہ ہی اسے آج تک عدالت کی طرف سے کبھی کوئی سزا سنائی گئی ہے، بلکہ نائیجیریا کی عدالت نے انہیں آزاد کرنے اور علاج کروانے کا حکم دیا ہے، ان کے ساتھ عادی مجرموں جیسا رویہ واقعاً ظالمانہ اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ضرور کچھ کرنا چاہیئے اور وہ تمام لوگ جو انصاف پسند ہیں، انہیں چاہیئے کہ اس معاملے پر اپنے ردعمل کا اظہار کریں۔ شیخ زکزاکی نائیجیریا میں اسلامی تحریک کے رہنما ہیں، وہ سوموار 12 اگست کو اپنی اہلیہ کہ ہمراہ ابوجا سے انڈیا کی طرف روانہ ہوئے ہیں، تاکہ وہاں اپنا علاج کروا سکیں۔ شیخ زکزاکی گذشتہ دو سال سے عدالتی حکم کے باوجود نائیجرین سکیورٹی فورس کی قید میں تھے اور صحت کے حوالے سے بہت خراب صورتحال سے دوچار تھے، کہا جاتا ہے کہ شیخ زکزاکی کی ایک آنکھ کی بینائی تقریباً ختم ہوچکی ہے۔
خبر کا کوڈ : 810583
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب