0
Thursday 15 Aug 2019 10:21

پاکستان کے پاس جنگ کےسوا کوئی راستہ نہیں، تجزیہ کار

پاکستان کے پاس جنگ کےسوا کوئی راستہ نہیں، تجزیہ کار
اسلام ٹائمز۔ سینئر تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ کشمیریوں کی مدد کیلئے پاکستان کے پاس جنگ کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے، پہلے جو کشمیری علیحدگی پسند نہیں تھے اب وہ بھی علیحدگی پسند ہو گئے ہیں، ہمیں کشمیر پالیسی سیاست سے بالاتر ہو کر بنائی جانی چاہیے، سلامتی کونسل جیسے ادارے عالمی طاقتوں کے ٹولز ہیں جو پہلے ہی انڈیا کی ہمنوا ہیں، تمام سیاسی قائدین کو پارٹی لائنز سے اوپر اٹھ کر دنیا میں کشمیر کا مقدمہ لڑنا چاہیے، پاکستان مضبوط کشمیر پالیسی بنا کر دنیا میں اجاگر کرے تو دنیا سے اپنی بات منوا سکتا ہے، پاکستان کو مستقل مزاجی سے کشمیر کے مضبوط مقدمہ کا مضبوط وکیل بننا چاہیے، پاکستان سے کوئی امید نہیں کہ کشمیریوں کیلئے کچھ کر سکے گا، کشمیر کے معاملہ پر نہ اسمبلی اور نہ ہی حکومتی اقدامات میں سنجیدگی نظر آتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار محمل سرفراز، مظہر عباس، سلیم صافی، حسن نثار اور حفیظ اللہ نیازی نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان کے سوالات کا جوابات دیتے ہوئے کیا۔

سوالات کا جواب دیتے ہوئے حسن نثار نے کہا کہ مودی حکومت کشمیری مسلمانوں کو مذہبی آزادی سے محروم کرنے کی مذموم کوشش تو کرسکتی ہے لیکن ایسا ممکن نہیں ہے۔ سلیم صافی نے کہا کہ کشمیریوں کی مدد کیلئے پاکستان کے پاس جنگ کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے، پاکستان ڈپلومیسی کے ذریعہ عالمی برادری کی توجہ کشمیر پر مبذول کروا سکتا ہے، لیکن موجودہ عالمی صورتحال میں ایسا ممکن نظر نہیں آتا، دوسرا طریقہ کچھ لو اور کچھ دو کا ہو سکتا ہے جس کیلئے لگتا ہے کہ کچھ عالمی اور ریجنل کھلاڑی کام کر رہے ہیں لیکن ایسا کوئی حل نہ کشمیریوں کو نہ ہی پاکستانیوں کو قابل قبول ہے، تیسرا اور حتمی راستہ یہی ہے کہ پاکستان غیرت کا مظاہرہ کرے اور کشمیر کیلئے ہندوستان سے جنگ کرے، کشمیری ستر سال پاکستان کیلئے لٹتے رہے تو ہم بھی ان کی خاطر لڑ مر سکتے ہیں، سلامتی کونسل جیسے ادارے عالمی طاقتوں کے ٹولز ہیں جو پہلے ہی انڈیا کی ہمنوا ہیں اس لئے کشمیر کی آزادی کیلئے ہمیں کچھ اور سوچنا ہو گا۔

مظہر عباس کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ستر برسوں میں دنیا کے سامنے کشمیر کا مقدمہ صحیح طور سے نہیں لڑا ہے، کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں ہوتی رہیں لیکن ہم نے دنیا کو آگاہ نہیں کیا، ہماری کشمیر پالیسی سیاست سے بالاتر ہو کر بنائی جانی چاہیے، تمام سیاسی قائدین کو پارٹی لائنز سے اوپر اٹھ کر دنیا میں کشمیر کا مقدمہ لڑنا چاہیے، پاکستان مضبوط کشمیر پالیسی بنا کر دنیا میں اجاگر کرے تو دنیا سے اپنی بات منوا سکتا ہے، ہم نے اب تک کشمیر کا مقدمہ بہت کمزور انداز میں لڑا ہے، ابھی بھی چین کے علاوہ سکیورٹی کونسل کے دوسرے رکن ممالک سے ہم نے بات ہی نہیں کی ہے، کشمیر پر پاکستان کا مقدمہ مضبوط ہے وکیل کو مضبوط ہونے کی ضرورت ہے۔
خبر کا کوڈ : 810605
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب