0
Wednesday 14 Aug 2019 12:39
انصاراللہ یمن کے ترجمان محمد عبدالسلام کی وفد کے ہمراہ رہبر انقلاب سے ملاقات

یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ آج کی دنیا اور انسانی حقوق کے دعویداروں کا اصلی چہرہ ہے، سید علی خامنہ ای

یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ آج کی دنیا اور انسانی حقوق کے دعویداروں کا اصلی چہرہ ہے، سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز۔ یمن کی اسلامی مزاحمتی تحریک انصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے منگل کے روز اپنے وفد کے ہمراہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی اور انصاراللہ یمن کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی کا خط انہیں پہنچایا۔ رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے انصاراللہ یمن کے ترجمان اور ان کے وفد سے ملاقات میں یمن پر ہونے والی وحشیانہ اور وسیع جارحیت کے مقابلے میں یمنی عوام کے ایمان، قیام اور عقلمندی کو سراہتے ہوئے اس بات پر تاکید کی کہ جو ایماندار قوم اللہ تعالیٰ پر ایمان اور الہیٰ وعدوں پر اعتقاد رکھتی ہو، بلاشبہ کامیاب ہوتی ہے، لہذا بلاشک مظلوم و مجاہد یمنی قوم ہی کامیاب ہوگی۔ رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے انصاراللہ یمن کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی کے بھائی سید ابراہیم بدرالدین الحوثی کی شہادت پر تبریک و تسلیت عرض کرنے کیساتھ ساتھ عظیم و مجاہد "بدرالدین" خاندان اور "شہید حسین بدرالدین" کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام اپنے گہرے و تاریخی تمدن اور خصوصاً ان 5 سالوں کے دوران مجاہدت و قیام پر مبنی اپنے عزم و ارادے کی بدولت بہترین مستقبل کے حامل ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہ (یمن میں) ایک مضبوط حکومت تشکیل دیں گے اور پھر اس حکومت کے ذریعے پیشرفت بھی حاصل کریں گے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ان دونوں کے حامی یمن میں بہت بڑے جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں، جبکہ یہ بات قطعی ہے کہ وہ کبھی اپنے اہداف کو پہنچ نہیں پائیں گے، کہا کہ وہ یمن کو تقسیم کرنے کی سازش پر عمل پیرا ہیں، جس کا ڈٹ کر مقابلہ اور سالم، متحد اور مکمل یمن کے حصول کیلئے تگ و دو کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں بہت سے دینی عقائد اور مختلف قومیتوں کی موجودگی کی بناء پر وہاں یمنیوں کے یمنیوں کے ساتھ مذاکرات کی اشد ضرورت ہے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے سعودی عرب اور اس کے حواریوں کے یمن کے خلاف مرتکب ہونے والے جرائم خصوصاً عیدالاضحیٰ کے روز بیگناہ یمنی عوام کی خونریزی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج جو کچھ یمن میں ہو رہا ہے، آج کی دنیا اور انسانی حقوق کے دعویداروں کا اصلی چہرہ ہے۔ انہوں اسلامی جمہوریہ ایران کے امریکہ و یورپ مخالف موقف کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ موقف کسی تعصب کی بناء پر اختیار نہیں کیا گیا بلکہ حقیقت اور امریکی و یورپی حکومتوں کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اختیار کیا گیا ہے، جو اپنے انسانی، مہذب اور اخلاقی ظاہری چہرے کی آڑ میں بدترین جرائم کا ارتکاب کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیشہ انسانی حقوق کا دم بھرتے ہیں۔

رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے یمن اور فلسطین میں ٹوٹنے والے ظلم کے پہاڑوں کے مقابلے میں مغربی دنیا کی لاتعلقی کو آجکل کی دنیا کی حقیقت آشکار کرنے کا ایک نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مجرم عالمی طاقتوں کا سامنا؛ ایمان، مزاحمت اور الہیٰ مدد و نصرت پر بھروسہ رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیئے اور (ان سے مقابلے کا) صرف یہی ایک رستہ ہے۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران پر اسلامی انقلاب کی کامیابی کے دن سے لیکر آج تک عائد ہونے والی گوناگوں پابندیوں اور اقتصادی دباؤ خصوصاً ایران پر مسلط کردہ 8 سالہ جنگ اور اس دوران ایرانی عوام کی بنیادی ضرورت کی اشیاء سے لے کر دفاعی ساز و سامان کے حصول میں آنے والی مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چالیس سال سے عائد گوناگوں پابندیوں کے باوجود ملتِ ایران نے اپنے قیام، ایمان اور جہاد کے ذریعے اپنے دفاعی اسلحے کے میدان میں انتہائی اہم صلاحیتیں پیدا کر لی ہیں۔ انہوں نے اپنی گفتگو کے آخر میں یمن کے مومن اور مجاہد مرد و خواتین کی مجاہدت کی حمایت کرتے ہوئے یمنی وفد سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے سلام کو مجاہد و عزیز برادر سید عبدالملک بدرالدین الحوثی اور اسی طرح یمن کی مومن و مجاہد قوم تک پہنچا دیں۔

اس ملاقات کے شروع میں انصاراللہ یمن کے ترجمان محمد عبدالسلام نے انصاراللہ کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی اور یمن کے تمام مجاہدوں کی طرف سے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو بھیجا گیا سلام پہنچاتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی ولایت کو حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی ولایت جبکہ یمن کے مظلوم عوام کی حمایت میں آپ کے حیدری و علوی موقف کو امام خمینیؒ کی سیرت کا تسلسل اور اپنے لئے مایۂ برکت اور انتہائی حوصلہ افزا سمجھتے ہیں۔ محمد عبدالسلام نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا دنیا کی مظلوم اقوام خصوصاً یمنی قوم کی حمایت پر مبنی موقف ایک دینی و اعتقادی موقف ہے، کہا کہ یمن کی عوام انتہائی سخت حالات میں گرفتار ہیں اور خالی ہاتھوں لیکن اپنے ایمان اور ثابت قدمی کے ساتھ (سعودی عرب کی قیادت میں یمن پر حملہ آور) 17 جارح قوتوں کے سامنے سینہ سپر ہیں جبکہ آپ کو یہ قول دیتے ہیں کہ یمنی قوم اس ظالمانہ جارحیت کے مقابلے میں فتح و کامیابی کے حصول تک اپنے پورے انسجام کے ساتھ یدِ واحد کی صورت مکمل استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرے گی۔
خبر کا کوڈ : 810699
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب