1
Thursday 15 Aug 2019 22:08

قم المقدسہ میں "غدیر سرچشمہ ولایت فقیہ" کے عنوان سے پروگرام کا انعقاد

قم المقدسہ میں "غدیر سرچشمہ ولایت فقیہ" کے عنوان سے پروگرام کا انعقاد
اسلام ٹائمز۔ 15 اگست 2019ء حوزہ علمیہ قم میں مدرسہ حجتیہ کے شہید مطہری (رہ) ہال میں "غدیر سرچشمہ ولایت فقیہ" کے عنوان سے پروگرام منعقد ہوا، جس میں تمام طبقات فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام و طلاب عظام نے شرکت کی۔ حجۃ الاسلام و المسلمین آقای محسن عباس جعفری نے اس پروگرام کی ماہیت، اہمیت اور اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج سرزمین پاکستان پہ بہت سے نام نہاد شیعہ خطباء اور جہلاء جہاں توحید، نبوت اور امامت جیسے بنیادی عقائد و نظریات کو اپنے منحرفانہ اور غالیانہ فکری حملات کا نشانہ بنا رہے ہیں، وہیں نظام ولایت فقیہ اور فقہاء و مراجع کے خلاف اپنی غلیظ زبان استعمال کر رہے ہیں کہ جس سے نہ صرف شیعہ عقائد مسخ ہو رہے ہیں بلکہ پیروان اہل بیت (ع) بھی شرک، غلو اور بدعت آمیز افکار کی جانب متمایل ہو رہے ہیں، لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ  ہر شیعہ استعمار اور اس کے ان ایجنٹوں سے بیزاری کا اظہار کریں اور ہر محاذ پر اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ان کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں، تاکہ یہ اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہ ہوسکیں اور اس سیمینار کا مقصد بھی آج کے اس فتنہ سے متعلق روشن گری اور استعمار کے ان فتنوں گروں سے اظہار بیزاری ہے۔

قم المقدسہ (پردیسان) کے امام جمعہ حضرت آیت ا۔۔۔ قوامی (حفظہ ا۔۔۔) نے سورہ قصص کی آیت نمبر 5 کو سرنامہ کلام قرار دیتے ہوئے عصر حاضر کے مستضعفین کی ذمہ داریاں بیان کیں اور فرمایا یاد رکھیں غدیر لوگوں کو ہدف خلقت تک پہنچانے کا پروگرام اور تدبیر ہے اور اس نظام امامت کو نافذ اور اجراء کرنے سے ہی مستضعفین کو وہ وراثت ملے گی، جس کا قرآن نے وعدہ کیا ہے۔ لہذا اگر آج مستضعفین جہان، دنیا کی سروری کی وراثت تک پہنچنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی اپنی سرزمینوں پہ نظام امامت و ولایت کے نفاذ کے لئے جہاد اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنا ہوگا، جیسا کہ آج سرزمین لبنان پہ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ اور یمن کی سرزمین پہ انصاراللہ کے سربراہ عبدالملک بدرالدین حوثی، عراق کی سرزمین پے حشدالشعبی و۔۔۔ اس الہیٰ نظام کی برپائی کے لئے راہ جہاد اور مسیر صبر و استقامت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ سب شخصیات اور گروہ ایران میں قائم شدہ نظام ولایت و امامت کی نہ فقط حامی ہیں بلکہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای کو عصر حاضر میں نائب امام زمان (عج) اور اپنا پیشوا مانتے ہیں۔ پس آج ہمارا فریضہ ہے کہ سرزمین ایران پہ موجود الہیٰ نظام امامت کی حفاظت کریں۔
 
اس پروگرام کے ایک اور خطیب حجۃ الاسلام و المسلمین آقا سید میثم ہمدانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا آج جبکہ حقیقتِ دین خطرے میں ہے تو سیرت آئمہ (ع) پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہم سب کا الہیٰ فریضہ یہ ہے کہ تقیہ کی حالت سے باہر آئیں اور  حسین ابن علی (ع) کی طرح میدان کارزار میں دین، دینی آئیڈیالوجی اور اسلامی بنیادوں کا دفاع کریں، کیونکہ آج کے دور کا یزید ایک مرتبہ پھر مقدسات دین کو پائمال کرنے کے درپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام جعفر صادق (ع) اور امام باقر (ع) نے غالیوں کے مقابلے میں جو سب سے اہم کام انجام دیا، وہ یہ تھا کہ ان کا حقیقی شیطانی چہرہ لوگوں کے سامنے بے نقاب کیا اور نظریاتی محاذ پر ان کے القاء کردہ شبہات کا جواب دیا۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی آج محکم گفتار (قولا سدیدا) سے ان مشرکانہ عقائد کے حامل غالیوں کا مقابلہ کریں۔

سیمینار کے آخری خطیب اور حوزہ علمیہ جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے استاد حجۃ الاسلام و المسلمین آقای سید شباب شیرازی نے آیہ اکمال دین (الیوم اکملت لکم دینکم) اور آیہ تبلیغ (بلغ ما انزل الیک من ربک) پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ولایت، اِتمامِ دین اور اِکمالِ دین کا نام ہے۔ یہ وہ نعمت ہے، جس کا جتنا شکر ادا کریں گے، خدا اپنے لطف سے اس میں اتنا ہی اضافہ فرمائے گا (لئن شکرتم لازیدنکم)۔ انہوں نے مزید کہا کہ عصرِ حاضر میں نظامِ ولایت و امامت کا ظہور ولایت فقیہ کی شکل میں ہے کہ جو درحقیقت ولایت امیرالمؤمنین کا ہی تسلسل ہے۔ یہ وہ صراط مستقیم ہے کہ صدرِ اسلام سے ہی جس کے دائیں اور بائیں، ناصبیت اور غالیت جیسے دو انحرافی تفکرات نے گھیرا ڈال لیا تھا کہ جو آج تک اپنی جدید اور اِرتقا یافتہ شکل میں موجود ہے۔

امام صادق (ع) نے واضح فرمایا کہ جو بھی غالیوں کی محفلوں میں بیٹھے یا ان کے ساتھ میل جول رکھے یا ان کے ساتھ مل کر کھانا کھائے یا ان کے ساتھ رشتہ داری قائم کرے یا ان کو امنیت فراہم کرے یا حتی اگر ایک لفظ سے بھی ان کی مدد کرے تو وہ اللہ، رسول اللہ (ص) اور ہماری ولایت سے نکل جائے گا۔ پس آج ہم سب کا دینی فریضہ ہے کہ اِن دشمنانِ دین ِخدا اور دشمنانِ اہل بیت (ع) غالیوں اور مشرکوں سے اظہار برائت کرتے ہوئے ان کے حقیقی و شیطانی چہرے سے عوام کے روشناس کرائیں۔ اور الحمد لللہ استاد محترم آقا سید جواد نقوی سرزمین پاکستان پر اپنی اس الہیٰ ذمہ داری کو پوری طرح نبھا رہے ہیں، لہذا آپ احباب سے گزارش ہے کہ اس الہیٰ فریضہ کی ادائیگی میں اُن کا بھرپور ساتھ دیں۔
خبر کا کوڈ : 810879
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب