0
Sunday 18 Aug 2019 21:38
نماز، روزہ، حج، زکوٰة، جمعہ، مسجد، وضو کا مذاق اڑانے والوں کا شیعیت سے کوئی تعلق نہیں

تشیع اسلام کی تفسیر اور جامع شریعت کا نام ہے، علامہ جواد نقوی

نوجوانوں کی جبری گمشدگی قانون اور آئین کیخلاف ہے، قومی ولایت کنونشن
تشیع اسلام کی تفسیر اور جامع شریعت کا نام ہے، علامہ جواد نقوی
اسلام ٹائمز۔ تحریک تحفظ تشیع پاکستان کے زیراہتمام ناصر باغ میں "قومی ولایت کنونشن" سے خطاب میں علامہ سید جواد نقوی اور دیگر مقررین نے واضح کیا ہے کہ ولایت، الٰہی نظام اور عقائد اسلام کی اصل توحید باری تعالیٰ ہے، توحید کے منافی تمام نظریات اور خرافات کو مسترد کرتے ہیں۔ کنونشن میں منظور کی جانے والی قراردادوں میں کہا گیا کہ ولایت تمام مسلمانوں کے درمیان نقطہ اشتراک ہے۔ تمام مسلمانوں کو باہمی اتفاق و اتحاد سے رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ محرم الحرام باہمی احترام کا مہینہ اور طاغوتی طاقتوں کیخلاف قیام کا درس دیتا ہے۔ عزاداری سیدالشہداء کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ ریاستی ادارے انتشار اور منافرت پھیلانے والے عناصر پر پابندی عائد کریں۔ کنونشن میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ نوجوانوں کی جبری گمشدگی قانون اور آئین کیخلاف ہے، ایسے تمام نوجوانوں کو عدالت میں پیش کیا جائے اور ان کو خاندان سے ملوایا جائے۔ کنونشن میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستانی قوم کشمیر و فلسطین کے مظلوموں سے اظہار یکجہتی کرتی ہے، بیت المقدس اور کشمیر کو فروخت کرنے کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ کنونشن میں پوری دنیا کے مظلوموں خصوصاً افغانستان، عراق، شام، لبنان، فلسطین، سعودی عرب، یمن، بحرین اور نائجیریا کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی بھی کیا گیا۔

تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ علامہ جواد نقوی نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ تشیع اسلام کی تفسیر اور جامع شریعت کا نام ہے، مگر افسوس عرب اور یورپ میں غلط طور پر تشیع کی منفی تصویر پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشیع کے بیرون اور اندرون ملک دشمن، شیعہ کا لبادہ اوڑھ کر مکتب اہل بیت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایسے لوگ برطانوی ایجنسی ایم آئی 6 کے ایجنڈے کے تحت گمراہیاں پیدا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شرک سے ایمان متزلزل ہوتا ہے۔ برطانیہ میں ٹی وی چینلز کو مسلمانوں کے درمیان ان اختلافات کو ہوا دینے اور جعلی اور من گھڑت مواد پیش کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ جعلی شیعہ ہیں، جو رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای اور اور عالم اسلام کے سرتاج حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کیخلاف وہی باتیں کرتے ہیں، جو ٹرمپ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نماز، روزہ، حج، زکوٰة، جمعہ، مسجد، وضو کا مذاق اڑانے والوں کا شیعیت سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسے لوگ صحابہ کرام اور امہات المومنین رضوان اللہ علیہم کی بھی بے حرمتی کرتے ہیں۔

علامہ جواد نقوی نے واضح کیا کہ مدارس، مساجد، مراجع تقلید، خطباء و مقررین شیعہ کی قوت کا باعث ہیں، مگر آئمہ جمعہ و جماعت کی توہین کرنے والے شیعہ کے لبادے میں موجود ہیں، جن کا تشیع سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مروجہ سیاست کرنے کی قوت و صلاحیت رکھنے کے باوجود، وہ ایسا کر رہے ہیں اور نہ ہی آئندہ سیاست میں آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی شیعہ کو اختلافات میں الجھائے رکھا گیا، جس سے ترقی کا سفر رک گیا۔ پاکستان میں شیعہ حقوق بھی کالعدم ہیں۔ محرم آنیوالا ہے، چند سال سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگوں کو فورتھ شیڈول کے نام پر جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ عزاداری کیلئے لائسنس اور مختلف رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔

علامہ جواد نقوی نے واضح کیا کہ وہ جشن عید میلاد النبی منانے کے حامی ہیں اور خود میلاد مصطفیٰ ہر سال مناتے بھی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شیعہ مقروض ہیں، جو ذکر اہل بیت کیلئے مجالس تو منعقد کرتے ہیں لیکن میلاد مصطفیٰ پر توجہ نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو قومی دھارے میں لانے کیلئے بجٹ رکھے جاتے ہیں، مگر شیعہ نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ اسلامی تحریک نائجیریا کے سربراہ الشیخ ابراہیم زکزاکی کو اس زمانہ کا ابوذر، مالک اشتر اور عمار یاسر قرار دیتے ہوئے کہا کہ علاج کی غرض سے آنیوالے عالم دین نے بھارتی حکومت کی طرف سے تذلیل برداشت کرنے کی بجائے واپس نائیجیریا جیل جانے کو ترجیح دی، جہاں ان کیخلاف مقدمات زیر سماعت ہیں۔ کنونشن سے علمدار بخاری، سجاد نقوی، علامہ حافظ کاظم رضا نقوی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
خبر کا کوڈ : 811287
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب