0
Monday 19 Aug 2019 09:44

مقبوضہ وادی میں اس وقت بدترین لاک ڈاون ہے تمام رابطے منقطع ہیں، راجہ فاروق

مقبوضہ وادی میں اس وقت بدترین لاک ڈاون ہے تمام رابطے منقطع ہیں، راجہ فاروق
اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق خان نے امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں امریکی کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کے اراکین رون رائیٹس، اینجی چن اور عامر علی روپانی سے ملاقات کی، وزیراعظم آزادکشمیر نے اراکین کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر وزیر حکومت احمد رضا قادری و دیگر بھی موجود تھے۔ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق خان نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں اس وقت بدترین لاک ڈاون ہے، تمام رابطے منقطع ہیں، ہندوستانی فوجیوں کو کالے قوانین کے تحت کشمیریوں کے قتل عام کی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے، ہندوستانی فوج لائن آف کنٹرول پر معصوم کشمیریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے اس کا حل ناگزیر ہے۔ امریکہ خطے کو جنگ کے خطرات سے بچانے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خودارادیت دلوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے امریکی کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کے اراکین کو مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر اور اقوام متحدہ کی کشمیر سے متعلق قراردادوں کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور بتایا کہ بھارت مسلسل اقوام متحدہ کے قراردادوں کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ وادی کے اندر انسانیت سوز اقدامات روا رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے اندر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے جس پر عالمی برادری، اور انسانی حقوق کے ادارے بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ 5 اگست سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے اندر انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں مزید تیز کر رکھی ہیں، مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو کا نفاذ ہے، میڈیا اور انٹرنیٹ سروس بند ہے اور کسی شخص کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہین۔ وادی کے اندر خوراک اور ادویات کی قلت کی وجہ سے کسی بڑے انسانی المیہ جنم لینے کا قوی امکان ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے، عالمی برادری کو اس جانب توجہ دینا ہو گی تاکہ کسی بڑے انسانی المیہ سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے آئینی ترمیم کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کر دی ہے جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنا ہے تاکہ مسلم اکثریتی علاقے کو اقلیت میں بدلا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوج میں بے پناہ اضافہ بھی کر دیا ہے بلکہ ساتھ ہی انتہا پسند تنظیم RSS اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کے غنڈوں کی بڑی تعداد بھی مقبوضہ کشمیر بھیج رہا ہے تاکہ کشمیریوں کی آواز کو طاقت کے بل بوتے پر کچلا جا سکے، اگر ایسے حالات میں عالمی برادری خاموش رہی تو انسانیت کے قتل میں آپ سب شامل ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت ریاستی دہشتگردی کے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول پر بھی بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جس سے آئے روز نہتے سویلین شہد ہو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب بھارت ایٹمی حملے کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے جس سے عالمی امن کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ اگر آج عالمی برادری نے بھارت کو ان جارحانہ عزائم سے نہ روکا تو کل کو عالمی جنگ چھڑنے کے خطرات ہیں۔ اقوام عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلہ کے حل کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالیں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ امریکی کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کے اراکین نے کہا خطے کے حالات پر ہمیں شدید تشویش ہے آپ کے تحفظات اور خدشات کو خارجہ امور کی کمیٹی کے سامنے رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی پامالی انتہائی سنگین جرم ہے، دنیا میں جہاں کہیں بھی یہ ہو ہمیں اس پر تکلیف ہوتی ہے۔ امریکی کانگرس کی خارجہ امور کمیٹی کے اراکین رون رائیٹس، اینجی چن اور عامر علی روپانی نے وزیراعظم آزادکشمیر کو ہر ممکن تعاون کا یقین بھی دلایا۔
خبر کا کوڈ : 811312
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب