0
Monday 19 Aug 2019 11:08

نیب منظوری کے بغیر کسی حاضر سروس یا ریٹائرڈ سول سروس ملازم کے خلاف کارروائی نہ کرے، ٹاسک فورس

نیب منظوری کے بغیر کسی حاضر سروس یا ریٹائرڈ سول سروس ملازم کے خلاف کارروائی نہ کرے، ٹاسک فورس
اسلام ٹائمز۔ سول سروس اصلاحات کے سلسلے میں تشکیل دی گئیں 2 ٹاسک فورسز نے تجویز دی ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سپروائزری کمیٹی کی منظوری کے بغیر کسی بھی حاضر سروس یا ریٹائرڈ سول سروس ملازم کے خلاف کارروائی نہ کرے۔ اس قسم کی تجاویز کو وفاقی حکومت کو ارسال کرنے کا فیصلہ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا تھا جس کی سربراہی وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات اور سادگی ڈاکٹر عشرت حسین نے کی تھی۔ تفصیلات کے مطابق اجلاس کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق وکیل سلمان اکرم راجہ نے یہ ترامیم نیب کی قانون سازی کے لیے ارسال کردی ہیں۔ جس کے مطابق کوئی تفتیش، ریفرنس یا گرفتاری اس وقت تک عمل میں لائی نہیں جاسکتی جب تک نیب اس کی وجوہات سپروائزری کمیٹی کے سامنے منظوری کے لیے نہ پیش کردے۔

اس صورت میں سپروائزری کمیٹی اس بات کا جائزہ لے کر کہ آیا فراہم کیے گئے ثبوت قابل تفتیش اور قابلِ گرفتاری ہیں، اس حوالے سے بیورو کی مدد کرے گی۔ یہ طریقہ کار ہر اس فرد کے لیے استعمال کیا جائے گا جو سول سروس سے کسی بھی طرح منسلک ہو یعنی کانٹریکٹ بنیاد یا ریٹائرڈ ملازم ہو تاہم یہ بات مدِ نظر رہے اس سے مراد صرف سرکاری ملازمین ہیں، سرکاری عہدوں پر موجود سیاسی شخصیات نہیں۔ مذکورہ سپروائزری کمیٹی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج، وفاقی حکومت میں بطور سیکریٹری یا اس سطح کے عہدے پر فرائض انجام دینے والے 3 افراد پر مشتمل ہے، جس کی ریٹائرمنٹ کی مدت کو سپروائزری کمیٹی میں شمولیت سے قبل 2 سال ہوچکے ہوں۔ سلمان اکرم راجہ کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کے 15 اراکین اکثریتی ووٹ کی بنیاد پر سپروائزری کمیٹی کا انتخاب کریں گے، جبکہ پارلیمانی کمیٹی کے اراکین کو ان پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہ نامزد کریں گے جن کی ایوان میں 10 سے زائد نشستیں ہوں۔
خبر کا کوڈ : 811324
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب