0
Monday 19 Aug 2019 18:47

ناصر باغ میں ولایت کنونشن کا انعقاد غیر قانونی تھا، حکومت کارروائی کرے، رائے مزمل

اجازت نہ ملنا ہمارا اور ضلعی انتظامی کا معاملہ ہے، کسی کو مرچیں کیوں لگ رہی ہیں، ترجمان تحریک تحفظ تشیع
ناصر باغ میں ولایت کنونشن کا انعقاد غیر قانونی تھا، حکومت کارروائی کرے، رائے مزمل
اسلام ٹائمز۔ مرکز ولایت علیؑ پاکستان کے مرکزی رہنماوں رائے مزمل حسین، سید کلیم حیدر گیلانی، حسین مہدی، سید ظہیر حیدر زیدی، میثم تمار بخاری اور حسنین حیدر نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناصر باغ لاہور میں ہونیوالا کنونشن غیر قانونی تھا، ضلعی انتظامیہ نے کنونشن کی اجازت نہیں دی تھی، اس کے باوجود ایک کاغذی تنظیم تحریک تحفظ تشیع پاکستان نے قانون شکنی کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی پابندی ہوا میں اُڑا دی۔ انہوں نے کہا کہ کنونشن کے انعقاد سے فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی گئی، جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ رائے مزمل کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ نے پروگرام کرنے کی اجازت نہ دی تو 300 کے قریب مسلح افراد نے ناصر باغ کے تالے توڑ دیئے اور پولیس والوں کو ہراساں کرکے اندر داخل ہو گئے، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے باوجود تحریک تحفظ تشیع پاکستان نے کنونشن کیا جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت قانون کی خلاف ورزی کرکے کنونشن کرنے والوں کا محاسبہ کرے اور تحریک تحفظ تشیع پاکستان کے تحت چلنے والے مدرسے جامعہ عروۃ الوثقیٰ کو سرکاری تحویل میں لیا جائے اور کنونشن کے حوالے سے جاری فنڈز کی بھی تحقیقات کروائی جائیں۔

دوسری جانب اس پریس کانفرنس پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے تحریک تحفظ تشیع پاکستان کے ترجمان سید فرحان کا کہنا تھا کہ ابھی تو ایک چھوٹا سا پروگرام ہوا ہے تو غالیوں کے دلوں پر گہری چوٹ لگ گئی ہے، ابھی تو عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے ہمیں کنونشن کے انعقاد کی اجازت دیدی  تھی، رات گئے انتظامیہ سے ہمارے مذاکرات کامیاب ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کل کے ہونیوالے کنونشن نے غالیوں اور نصیریوں کو بے نقاب کر دیا ہے جس سے ان کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم ان سے اور ان کے مخفی سرپرستوں سے بھی آگاہ ہیں اور انہیں مناسب موقع پر جواب بھی دیں گے۔ تحریک کے ترجمان نے مزید کہا کہ ہم عقائد تشیع کے محافظ ہیں اور تحریک تحفظ تشیع کوئی کاغذی یا نئی تنظیم نہیں بلکہ یہ ایک تحریک ہے جو 14 سو سال سے چلی آ رہی ہے، اور اسی تحریک نے ہی کربلا میں یزید کو عبرتناک شکست دی اور آج کربلائے پاکستان میں بھی یہی تحریک یزید کے فرزندوں کیخلاف سینہ سپر ہے اور ان شاء اللہ یہاں بھی یزید کے فرزند ہی ہزیمت سے دوچار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کنونشن میں عوام کی شرکت نے بتا دیا کہ یہ تحریک کاغذی ہے یا عملی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان دشمنان ولایت کا مسلسل پیچھا کریں گے اور ان کو ملت جعفریہ کیخلاف سازشیں کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
خبر کا کوڈ : 811416
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب