0
Wednesday 21 Aug 2019 12:02

ایسی اطلاعات ہیں کہ بھارت آزادکشمیر پر کسی وقت بھی حملہ کر سکتا ہے، مسعود خان

ایسی اطلاعات ہیں کہ بھارت آزادکشمیر پر کسی وقت بھی حملہ کر سکتا ہے، مسعود خان
اسلام ٹائمز۔ آزادکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ بھارت آزادکشمیر پر کسی وقت بھی حملہ کر سکتا ہے، بھارت نے اگر ایسی حماقت کی تو پوری ریاست کو بھارت کا قبرستان بنا دیں گے۔ مودی سرکار کو بھارت کے پہلے وزیراعظم جوہر لعل نہرو کی اس بات پر دھیان دینا چاہیے کہ آزادکشمیر پر حملہ کی کبھی غلطی نہ کرنا کیونکہ ایسی صورت میں بھارت کا کوئی فوجی اس علاقے سے زندہ واپس نہیں آئے گا۔ یہ بات انہوں نے منگل کے روز کشمیر ہاﺅس اسلام آباد میں قومی اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ بھارت کے جنونی حکمرانوں کی جنونیت سے جنم لینے والے انسانی المیہ پر کیا اقدامات اٹھاتی ہے اور خطہ میں جنگ اور تباہی کے منڈلاتے خطرات کو کم کرنے کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔

سردار مسعود خان نے کہا کہ سلامتی کونسل پاکستان  جموں و کشمیر کے عوام کی طرف سے کسی درخواست کا انتظار کئے بغیر اپنے طور پر اقوام متحدہ کے چارٹرز کی دفعہ ایک، تینتیس، چونتیس، پینتیس، چھتیس، اکتالیس اور بیالیس کے تحت فوری اقدامات کرتے ہوئے جنوبی ایشیاء میں امن و سلامتی کو لاحق سنگین خطرات کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ کوئی انوکھا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ سلامتی کونسل اس سے قبل بھی مالی، سوڈان اور وسط افریقہ کے کئی ممالک میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے اس طرح کے اقدامات کر چکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی پوری وادی مکمل طور پر محاصرے میں ہے، بے گناہ شہریوں کو قتل کیا جا رہا ہے، پوری آبادی کو کھانے پینے کی اشیاء اور ادوویات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ ایسی صورتحال میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل فوری مداخلت کر کے انسانی راہداری قائم کر کے محصور آبادی کی زندگی بچانے کے لئے ہنگامی اقدامات کرے۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کشمیر کے دونوں حصوں میں تعینات اقوام متحدہ کی فوجی کی فوجی مبصرین کی رپورٹس کی روشنی میں بھارتی فوج کی طرف سے سیز فائر معائدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے پار سے آزادکشمیر کی شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کرائے۔ بھارتی فائرنگ اور گولہ باری سے ہونے والی جانی و مالی نقصان کا حوالہ دیتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ حالیہ دنوں میں آزادکشمیر کے تین درجن سے زیادہ شہریوں کو شہید اور درجنوں کو زخمی کیا گیا ہے جو بھارت کی طرف سے اشتعال انگیزی کی بدترین مثال ہے۔

صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی بین الاقوامی سطح پر موثر نمائندگی کر رہا ہے اور کشمیری عوام پاکستان کی کوششوں سے مطمئن ہیں۔ لیکن قانونی طور پر کشمیری عوام لائن آف کنٹرول کے تقدس کو تسلیم نہیں کرتے اور وہ اس منحوس خونی لیکر کو روند کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مصیبت میں پھنسے اپنے بھائیوں بہنوں کی مدد کرنے کے لئے بے تاب ہیں۔ ہم دنیا پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم امن پسند ہیں جنگ کے شعلوں کو ہوا نہیں دینا چاہتے ہیں لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو وہ اپنی بہادر افواج کے ساتھ مل کر بھارت کی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی جنگ ہوئی تو وہ محدود ہو گی نہ ہی دو ملکوں کے درمیان ہو گی بلکہ اس کے منفی اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ بھارت کی طرف سے کشمیریوں کی نسل کشی اور ان کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات کی تحقیقات کے لئے بین الاقوامی کورٹس تشکیل دیے جائیں۔
خبر کا کوڈ : 811836
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب