0
Wednesday 21 Aug 2019 13:12

ایران کیساتھ گفتگو کیلئے سعودی عرب ثالثوں کی تلاش میں، مغربی میڈیا

ایران کیساتھ گفتگو کیلئے سعودی عرب ثالثوں کی تلاش میں، مغربی میڈیا
اسلام ٹائمز۔ مشرق وسطٰی اور بالخصوص فلسطین اسرائیل ایشوز پر لکھنے والے برطانوی اخبار "مڈل ایسٹ مانیٹر" نے سعودی عرب کی طرف سے ایران کے ساتھ گفتگو کے دروازے کھولنے کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سعودی عرب یہ جان چکا ہے کہ ایران کے بارے میں اس کی حالیہ سیاست کامیاب نہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اب اپنی اس سیاست میں تبدیلی لانا چاہتا ہے۔ برطانوی اخبار کا لکھنا تھا کہ سعودی عرب نے ایران کے ساتھ گفتگو کے لئے "ثالثی" کے رستے کا انتخاب کیا ہے جبکہ اس صورتحال میں تہران کے ساتھ ریاض کے اس خفیہ مذاکراتی چینل کی تشکیل میں بغداد نے بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔

مڈل ایسٹ مانیٹر لکھتا ہے کہ ریاض نے واشنگٹن سے اپنی راہیں جدا کر لی ہیں، کیونکہ اسے پتہ چل گیا ہے کہ واشنگٹن اس کے لئے قابل اعتماد اتحادی نہیں، کیونکہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جنگ پر تیار نہیں تھا جبکہ بعدازیں ریاض کے بارے میں متکبر امریکی صدر "ٹرمپ" کے توہین آمیز بیانات بھی سعودی عرب کے لئے پریشانی کا باعث بنتے رہے ہیں، جو اس بات کا باعث بنے ہیں کہ سعودی عرب ایران کے بارے میں اپنی اختیار کردہ سیاست پر نظرثانی کرے، جبکہ دوسری طرف سعودی عرب، ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے کسی بھی قسم کے احتمالی مذاکرات کو امریکہ کی طرف سے اپنی کمر میں خنجر گھونپے جانے کے مترادف سمجھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب، واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے کسی بھی مذاکرات سے شدید وحشت کا شکار ہو جاتا ہے۔

یہ اخبار لکھتا ہے کہ بعدازاں حالات اُس نازک موڑ تک بھی جا پہنچے، جب متحدہ عرب امارات کے ایک اہم وفد نے ایران کی راہ لی جبکہ ایران کیساتھ تعلقات کے بارے میں متحدہ عرب امارات کے امیدوارانہ بیانات کا بھی یہی معنی نکلتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانا چاہتا ہے، جبکہ ماہرین کا خیال یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کے وفد کا تہران کا دورہ اس کی ریاض کیساتھ قبل از وقت ہماہنگی کے بغیر ممکن نہیں تھا، جبکہ وہ "الشرق الاوسط" نامی مجلے میں محمد بن سلمان کے اس بیان کہ ان کا ملک خطے میں جنگ کا خواہاں نہیں، کو بھی سعودی عرب کے "جنگ کو اندرون ایران منتقل کرنے کے منصوبے" سے یوٹرن پر مبنی پیغام تصور کرتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 811847
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے