0
Wednesday 21 Aug 2019 18:51

مسئلہ کشمیر کے تین ٹرننگ پوائنٹس

مسئلہ کشمیر کے تین ٹرننگ پوائنٹس
تحریر: لیاقت علی انجم

یہ 14 دسمبر 2010ء کا ایک معمول کا دن تھا، تیونس کے قصبے سدی بوزید کے غریب گھرانے میں پیدا ہونے والے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کرنے والے 26 سالہ نوجوان  محمد بوعزیزی بے روزگاری کی وجہ سے سدی بوزید کے بازار میں سبزی کا ٹھیلہ لگا کر اپنے خاندان کے آٹھ افراد کی روزی روٹی کا بندوبست کرنے میں مصرف تھا، اسی دوران پولیس پہنچی، ٹھیلے کا پرمٹ مانگا، نہ ملا تو الٹ دیا، محمد بوعزیزی تھانے پہنچ گیا، دادرسی کی فریاد کی، کسی نے نہ سنی، مذاق اڑایا تو واپس بازار آیا، فیس بک پر اپنی ماں کیلئے الوداعی پیغام چھوڑا اور 17 دسمبر کو بلدیہ کے دفتر کے سامنے تیل چھڑک کر خود کو آگ لگا دی، اس آگ نے 4 جنوری 2011ء کو ہسپتال میں عزیزی کی جان لے لی، پٹرول کے شعلوں نے نوجوان کی تو جان لی لیکن اس آگ نے پورے عالم عرب کو لپیٹ میں لے لیا۔ تیونس میں مظاہرے پھوٹ پڑے، ملک پر تیئس سال سے براجمان ڈکٹیٹر زین العابدین کی حکومت کا دھڑن تختہ ہوا، وہ اپنے خاندان سمیت راتوں رات سعودی عرب فرار ہونے پر مجبور ہوا، محمد عزیزی کی آگ نے مصر کے حسنی مبارک، لیبیا کے کرنل قذافی اور یمن کے علی عبداللہ صالح کو بھی بھسم کرکے رکھ دیا، بحرین، سعودی عرب میں بھی عوامی شعلے بھڑکنے لگے۔

یہ 6 جولائی 2016ء کا ایک غیر معمولی دن ہے، مقبوضہ کشمیر کے جنوبی علاقے میں ایک گاؤں میں بھارتی فورسز نے ایک مکان کو گھیرے میں لے رکھا ہے، فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی فورسز نے مکان کو بم سے تباہ کر دیا، بارود کی بو چھٹنے کے بعد مکان کے ملبے کا جائزہ لیا گیا تو وہاں سے تین نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، ان میں سے ایک لاش 21 سالہ نوجوان برہان مظفر وانی کی تھی، جب یہ خبر مقبوضہ کشمیر میں پھیلی تو کشمیری مزاحمت کی تاریخ میں طویل ترین مظاہروں کا آغاز ہوا، تب سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں صورتحال بھارت کے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ برہان وانی کی تدفین اور نماز جنازہ کو مقبوضہ کشمیر کی تاریخ کے سب سے بڑے اجتماع میں شمار کیا جاتا ہے، انہیں پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا گیا، یہاں سے صورتحال تبدیل ہونا شروع ہوئی، ہندوستان کے بڑے صحافیوں نے کہنا شروع کیا کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ کشمیر کی تحریک آزادی کو برہان وانی نے نئی جہت دی تھی، 2016ء سے اب تک مقبوضہ کشمیر کی صورتحال روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے، اس کا نتیجہ مقبوضہ وادی میں اسرائیلی فارمولے کی ابتدا سے برآمد ہوا ہے۔ تو کیا اب کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد مودی چین کی بانسری بجا پائیں گے۔؟

اب دوبارہ عرب چلتے ہیں، تیونس میں حکومت تبدیل ہوئی، مصر میں حسنی مبارک کی کرسی چلی گئی، لیبیا میں کرنل قذافی بھیانک موت مرا، یمن میں علی عبد اللہ صالح مستعفی ہوا، تبدیلی تو آگئی لیکن انقلاب نہیں آیا۔ عوام تو تیار تھے، لیکن قیادت نہیں تھی، کسی بھی انقلاب اور تحریک کیلئے مضبوط قیادت کی ضرورت ہوتی ہے، قیادت میں کمزوریاں ہوں تو حشر اخوان المسلمون جیسا ہوتا ہے، جہاں مصر میں ایک اچھی خاصی تبدیلی کو قیادت کی کمزوری نے دوبارہ سے پہلے سے سخت ڈکٹیٹر کی جھولی میں ڈال دیا، منظر نامہ عرب بہار اور مقبوضہ کشمیر کا یکساں ہے، برہان وانی کی شہادت اور مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی کے بعد سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں، یہ ایک موثر تبدیلی کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں، کیونکہ مسئلہ کشمیر اپنی تاریخ میں تیسری مرتبہ ٹرننگ پوائنٹ پر آن پہنچا ہے۔

پہلا ٹرننگ پوائنٹ
1965ء میں درگاہ حضرت بل کی بے حرمتی اور بھارتی پارلیمان میں مقبوضہ وادی کی حیثیت سے متعلق پیش ہونے والے قانون کی وجہ سے کشمیریوں میں شدید غم و غصے کی کیفیت تھی، صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور وادی میں تربیت یافتہ کمانڈوز اتار کر خفیہ آپریشن کا پلان بنایا گیا، اس آپریشن کو ''آپریشن جبرالٹر'' کا نام دیا جاتا ہے۔ ایوب خان کے دور میں میجر جنرل اختر ملک کے زیر کمان چھ سے آٹھ ہزار کمانڈوز مقبوضہ وادی میں داخل کیے گئے، اس آپریشن نے شروع میں بھارتی فوج کو حیران تو کر دیا، لیکن ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے یہ بری طرح ناکام ہوا، آپریشن جبرالٹر کی کوکھ سے 65ء کی جنگ برآمد ہوئی، آپریشن کی ناکامی کے باؤجود جنگ میں پاکستان کا پلڑا بھاری رہا، بھارت سینکڑوں طیاروں، ٹینک اور کئی سو مربع کلومیٹر علاقوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا، بعد میں معاہدہ تاشقند کے نتیجے میں مفتوحہ علاقے بھارت کو واپس کر دیئے گئے، ماہرین کے مطابق آپریشن جبرالٹر کی اگر تھوڑی سی بھی منصوبہ بندی کی جاتی اور مقبوضہ وادی میں داخل کرائے گئے کمانڈوز کو پیچھے سے کمک پہنچانے کا انتظام کیا ہوتا تو مقبوضہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل جاتا۔

دوسرا ٹرننگ پوائنٹ
1984ء میں بھارت نے خاموشی سے سیاچن پر قبضہ کر لیا، اس وقت کے فوجی ڈکٹیٹر ضیاء الحق نے یہ کہہ کر نظر انداز کیا کہ سیاچن میں تو گھاس بھی نہیں اگتی، بعد میں صورتحال کی نزاکت کا احساس ہوا تو پاکستان کو بھی مجبوراً سیاچن میں فوج اتارنا پڑی، پاکستان اگر سیاچن قبضے کو سنجیدہ نہیں لیتا تو وہاں سے سکردو زیادہ دور نہیں تھا، اس وقت سے اب تک یہ دنیا کا بلند ترین اور خطرناک ترین محاذ جنگ ہے، جہاں ایک گولی چلے بغیر سخت موسم کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے سینکڑوں فوجی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ سیاچن کا بدلہ لینے کیلئے پاک فوج نے کارگل آپریشن شروع کیا، گو کہ کارگل جنگ کے اسٹریٹجک پہلوؤں کو سیاست کی نذر کر دیا گیا، لیکن یہ آپریشن اپنی جگہ انتہائی اہم اور بھارت کیلئے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا، سردیوں کے موسم میں قبضے میں لی گئی بھارتی فوج کی چوکیوں کو دفاعی نقطہ نگاہ سے انتہائی اہم تصور کیا جاتا تھا، اس قبضے کے نتیجے میں بھارتی فوج کی سپلائی لائن پاک فوج کے نشانے پر آگئی، بعد میں جب کارگل جنگ چھڑ گئی تو پاک فوج کی این ایل آئی رجمنٹ نے دراس اور کارگل سیکٹر تک کا علاقہ اپنے قبضے میں لے لیا، کارگل جنگ پوری کی پوری این ایل آئی (ناردرن لائٹ انفنٹری) نے لڑی، (این ایل آئی رجمنٹ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے جوانوں پر مشتمل ہے) 1999ء تک این ایل آئی رجمنٹ نہیں تھی، صرف نیم فوج کی حیثیت حاصل تھی، کارگل جنگ کے بعد جنرل مشرف نے این ایل آئی کی بہادری اور قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اسے باقاعدہ رجمنٹ کا درجہ دیدیا۔

کارگل جنگ میں شریک این ایل آئی کے جوانوں کے مطابق پاکستان کھل کر جنگ میں شریک نہ ہوسکنے اور کمک نہ پہنچنے کے بائوجود پاک فوج کی این ایل آئی رجمنٹ نے بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوا دیئے تھے، پاک فوج نے کارگل جنگ کا پانسہ پلٹ دیا اور دراس سے لے کر کارگل تک کا علاقہ قبضے میں لے لیا۔ بھارتی فوج دفاعی پوزیشن پر کھڑی تھی۔ بھارتی فضائیہ پوری قوت کے ساتھ بمباری کر رہی تھی اس کے باؤجود وہ پاک فوج کا قبضہ چھڑانے میں ناکام رہی تھی، بعد میں بھارت نے امریکی کارڈ استعمال کرتے ہوئے نواز شریف کو راتوں رات وائٹ ہاؤس بلوا لیا گیا اور بل کلنٹن کے سامنے بغیر کسی معاہدے کے کارگل سے پیچھے ہٹنے کا حکم نامہ واشنگٹن سے جاری ہوا، کارگل جنگ میں پاک فوج کا سب سے زیادہ نقصان مفتوحہ علاقوں سے پیچھے ہٹنے کے دوران دشمن کی جانب سے پشت سے کیے گئے حملوں سے ہوا، جس کی وجہ سے درجنوں اہلکار شہید ہوئے۔ کارگل آپریشن میں پاک فوج نے مقبوضہ کشمیر کیلئے بھارتی فوج کی بنیادی سپلائی لائنوں کو مکمل طور پر کاٹ دیا تھا، یہ تاریخ میں دوسرا ٹرننگ پوائنٹ تھا، لیکن اعلان واشنگٹن نے ایک جیتی ہوئی جنگ کو شکست مین تبدیل کرکے رکھ دیا۔

تیسرا ٹرننگ پوائنٹ
برہان وانی کی شہادت بعد کشمیر کی تحریک آزادی نے نیا رخ تو اختیار کر لیا تھا، لیکن مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد حالات نئے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں، بین الااقوامی سطح پر پچاس سال بعد مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو نہ صرف تسلیم کیا گیا بلکہ اٹوٹ انگ کے بھارت کے روایتی دعوے کی ہوا نکل گئی ہے، سلامتی کونسل نے متنازعہ حیثیت کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ دونوں ممالک کو اس تنازعہ کو حل کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ بین الاقومی سطح پر مسئلہ اجاگر ہونے کے ساتھ ایک اور اہم ترین پہلو یہ بھی ہے کہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد 80 لاکھ کشمیری عوام کو  غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ لوگ جانتے ہیں کہ بھارت کا حالیہ اقدام ایک طویل المدتی منصوبہ ہے، جس کے ذریعے وادی کی ڈیموگرافی کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ہے، تاکہ تحریک آزادی کو ختم کیا جا سکے۔ کشمیری عوام کو اس خطرے کا بخوبی ادراک ہے اور وہ اپنے مستقبل کو بچانے کیلئے ڈو اینڈ ڈائی کی پوزیشن پر کھڑے ہیں، وادی میں کرفیو کو تیسرا ہفتہ ہونے کو ہے، پوری وادی سب جیل میں تبدیل ہوچکی ہے، سوال یہ ہے کہ کرفیو ہٹنے کے بعد حالات کیا رخ اختیار کرینگے، اس بارے میں کوئی بھی پیشنگونی نہیں کی جا سکتی، یہ صورتحال مسئلہ کشمیر کی تاریخ میں تیسرا ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ عوام تیار ہیں، بس قیادت اور ریاست کا امتحان شروع ہے کہ وہ اس تبدیلی کو انقلاب میں تبدیل کرے، عرب سپرنگ کا تجربہ سامنے ہے۔
خبر کا کوڈ : 811874
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے