0
Wednesday 21 Aug 2019 18:27

دیر لوئر، 4 افراد کے قتل اور پولیس کی غفلت کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

دیر لوئر، 4 افراد کے قتل اور پولیس کی غفلت کیخلاف احتجاجی مظاہرہ
اسلام ٹائمز۔ دیر لوئر میں تین روز قبل ایک ہی خاندان کے 4 افراد کے قتل اور پولیس کی غفلت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں مقامی سیاسی و سماجی رہنماؤں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ تھانہ منڈا کی حدود میں واقع گوسم نامی علاقے میں سراج اور فضل الرحمٰن کے درمیان پیسوں کا تنازعہ چل رہا تھا جس میں سراج گروپ نے دوسرے فریق کے ایک شخص کو اغواء کر لیا تھا۔ ذرائع کے مطابق فجل الرحمٰن گروپ کے افراد جب اپنے بندے کی بازیابی کیلئے سراج کے حجرے گئے تو وہاں فریقین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں مرکزی ملزم سراج نے فائرنگ کر کے ان کے 4 بندوں کو قتل کر دیا۔ مقتولین میں رحمت اللہ جان، حمید اللہ، ریاض اور اسماعیل شامل تھے، جبکہ فائرنگ سے سراج گروپ کا اعجاز نامی ایک بندہ بھی زخمی ہوا جو اسوقت تیمرگرہ ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد 2 ملزمان زیر حراست جبکہ مرکزی ملزم سراج روپوش ہے۔

آج جندل میں ڈاکٹر سربلند خان، جماعت اسلامی کے اعزاز الملک افکاری، رکن صوبائی اسمبلی بہادر خان و دیگر سیاسی مشران نے واقعہ کے خلاف احتجاج کیا اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ وقوعہ سے قبل متاثرہ فریق نے تھانے میں رپورٹ درج کرائی تھی کہ سراج گروپ نے ان کے والد کو اغواء کیا ہے، تاہم پولیس نے لیت و لعل سے کام لیا اور اپنا قانونی کردار ادا نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 3 روز گزرنے کے باوجود پولیس نے تاحال مرکزی ملزم کو گرفتار نہیں کیا کیونکہ وہ بااثر ملزمان سے ملی ہوئی ہے۔ مشتعل مظاہرین نے آئی جی پی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈی پی او دیر لوئر اور مقامی تھانہ کے ایس ایچ او کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے کیونکہ پولیس علاقے میں امن و امان کی بحالی میں مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ مظاہرین نے دیر باجوڑ پشاور شاہراہ 3 گھنٹوں سے بلاک کیا ہوا ہے، جبکہ انتظامیہ اور مظاہرے کے قائدین کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔
خبر کا کوڈ : 811893
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب