0
Wednesday 21 Aug 2019 23:51

وسیم اختر کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے اور حساب لیا جائے، بہت پیسے نکلیں گے، مصطفٰی کمال

وسیم اختر کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے اور حساب لیا جائے، بہت پیسے نکلیں گے، مصطفٰی کمال
اسلام ٹائمز۔ چیئرمین پاک سرزمین پارٹی سید مصطفٰی کمال نے کہا کہ وسیم اختر کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے، کراچی کی بربادی کا حساب اس سے لیا جائے، بہت پیسے نکلیں گے، میں اب وزیراعظم سے کوئی درخواست نہیں کرتا، بھلے اب مجھے غیر آئینی کہیں، یا غیر قانونی کہیں، مجھے اپنے لوگوں کو بچانا ہے، اس لئے میں سیدھا پاکستان کی سب سے بااثر ترین شخصیت چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو آواز دیتا ہوں، جو اکنامکس کمیٹی کے ممبر بھی ہیں، ان سے گزارش کرتا ہوں کہ جس طرح وہ کور وزٹس کرتے ہیں، اسی طرح کراچی کو بھی وزٹ کریں، کراچی پاکستان کا 70 فیصد ریونیو جنریٹ کرتا ہے، آپ خدارا آئیں، آپ سب کو بلائیں گے تو یہ سب آئیں گے اور کام کریں گے، ورنہ کراچی کی تباہی پاکستان ہوگی، تینوں حکومتیں کراچی میں ٹِک ٹْوک پر سیلفیاں بنوا رہی ہے، ایک کہتا ہے میرا کام نہیں تو دوسرا کہتا ہے میرا نہیں، جب کراچی کسی کا کام نہیں تو کیا کراچی والے اقوام متحدہ جائیں؟ عید کو گزرے دس دن ہوگئے لیکن تمام اوجھڑیاں ابھی تک پڑی ہوئی ہیں۔

مصطفٰی کمال نے سوال کیا کہ کراچی کو وفاق کے سپرد کیوں کریں؟ کیا وہ پاکستان میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں؟ نہیں کر رہے! کراچی کو کراچی والوں کے حوالے کریں، کراچی کو باکردار قیادت کی ضرورت ہے، ان کو ذمہ داری دیں کراچی ٹھیک ہوجائے گا، اب بھی پاکستان کو کراچی 3000 ارب روپے دے رہا ہے، کیا اب کراچی کے نالوں کی صفائی کے بھی پیسے دیں؟ پورے پاکستان کی صفائی کراچی کے پیسوں سے ہو رہی ہے لیکن کراچی کی صفائی کے لئے وفاق پیسے مانگ رہا ہے۔ مصطفٰی کمال نے چیف آف آرمی اسٹاف سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں ایمرجنسی نافذ کی جائے، اس کو اسپیشل اسٹیٹس دیں، میں پھر بتا رہا ہوں کہ کراچی 8000 ارب روپے سے زیادہ جمع کرکے دے سکتا ہے، لیکن اس کو چلانے والے چور ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس میں پریجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پی ایس پی صدر انیس قائم خانی، دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ریونیو انجن کراچی 3000 ارب جمع کرنے والا، سب سے زیادہ نوکریاں دینے والا شہر، لائف لائن، دونوں سی پورٹس کراچی میں ہیں، کراچی پاکستان کو پال رہا ہے، دشمن سرحد پر وار کر رہا ہے، لیکن کراچی میں قوم سے کھلواڑ کیا جارہا ہے، قوم سے زیادتی کی جارہی ہے، اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے تین سال سے توجہ دلا رہا ہوں، وقت و حالات نے ہماری ہر بات کو سچ ثابت کردیا، حل بھی بتا رہا ہوں، مگر کرنے والے نہیں کرنا چاہتے، ذرا سی بارش میں 46 لوگ مر جاتے ہیں، دو ہفتے گزر جانے کے باوجود گھروں تک سے گٹر کا پانی نہیں نکلا، آلائشوں کا پراجیکٹ شروع ہوگیا، اب تک کبھی سنا تھا کہ شہر میں صفائی کا کوئی پراجیکٹ ہو، میرے زمانے میں سارا سال کام چلتا تھا۔

مئیر کراچی نے آلائشوں کے لئے خندقیں تک نہیں کھودی، سرکاری اسپتالوں میں 8000 بچے بیماریوں سے متاثر ہوکر پہنچے ہیں، شہر مچھر مکھیوں سے بھر گیا، مئیر سے بات کرنا بیکار ہے، کچرا اٹھانے کا 80 فیصد اختیار مئیر کے پاس ہے، نالوں کا 100فیصد اختیار اس کے پاس ہے، یہ پاکستانیو کا پیسہ ہے، کلین کراچی میں کچرا نالوں سے نکال کر پارکوں اور سڑکوں پر ڈالا جارہاہے، حدہے کہ کچرے کو لینڈ فل سائٹ پہ لے جانے کی بھی اجازت مانگ رہے ہیں، تینوں حکومتیں مسئلہ حل نہیں کر رہیں، ایک جگہ سے دوسری جگہ شفٹ کر رہے ہیں، آج جہاں ملکی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے وہاں کراچی کے لوگ اپنے مرتے بچوں کو بچائیں گے یا ملکی یکجہتی کے لئے قوم کیساتھ کھڑے ہوں گے، اس لئے قمر جاوید باجوہ جنگی بنیادوں پہ اس مسئلے کو حل کروائیں۔
خبر کا کوڈ : 811937
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب