0
Thursday 22 Aug 2019 20:30

لگتا ہے جنرل باجوہ کی توسیع کشمیر سے زیادہ افغانستان میں عالمی طاقتوں کی ضرورت ہے، اعجاز ہاشمی

لگتا ہے جنرل باجوہ کی توسیع کشمیر سے زیادہ افغانستان میں عالمی طاقتوں کی ضرورت ہے، اعجاز ہاشمی
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی صدر اور نائب صدر متحدہ مجلس عمل پیر اعجاز احمد ہاشمی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرٹ پر عملدرآمد ہونا چاہیے تھا اور عدلیہ میں چیف جسٹس کی تعیناتی کی طرح فوج میں بھی سربراہ سنیارٹی کی بنیاد پر تعیناتیاں ہونی چاہیں۔ اس سے نہ صرف انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے بلکہ میرٹ پر عملدرآمد ہوگا اور نئے آنیوالوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوگی۔ جے یو پی لاہور کے عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی ہنگامی صورتحال نہیں تھی کہ موجودہ آرمی چیف کو آئندہ تین سال کیلئے بھی برقرار رکھا جاتا۔ چونکہ فوج کے اندر تمام کام نظم و ضبط سے ہوتے ہیں، ایسے اداروں میں افراد نہیں، میرٹ اور ڈسپلن کا راج ہوتا ہے، کسی کا استحقاق مجروح نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھی جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع اس وقت دہشتگردی کیخلاف جاری جنگ کے تناظر میں کی تھی، لیکن پی پی پی رہنما تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کوئی قابل تعریف فیصلہ نہیں تھا۔ پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ لگتا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کشمیر سے زیادہ افغانستان میں عالمی طاقتوں کی ضرورت ہے اور یہ باتیں بھی ہوتی رہی ہیں کہ آرمی چیف تحریک انصاف اور وزیراعظم عمران خان کو اقتدار میں لانے میں نیک شگون ثابت ہوئے ہیں اور آئندہ بھی ان کا اقتدار برقرار رکھنے کیلئے ان کی موجودگی ضروری ہے لیکن احتساب اور میرٹ کی باتیں کرنیوالی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو خیال کرنا چاہیے کہ یہ نوجوانوں کی حوصلہ شکنی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ وزیراعظم کے فیصلے کے باوجود جنرل قمر جاوید باجوہ اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے عہدہ قبول کرنے سے معذرت کر لیں گے اور جس کا استحقاق بنتا ہے اسے موقع دیں گے۔
خبر کا کوڈ : 812015
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب