5
Thursday 22 Aug 2019 15:49
"باور-373" نامی نئے ایرانی ایئر ڈیفنس سسٹم کی افتتاحی تقریب سے خطاب

میں نے کبھی امریکہ کو اتنا تنہاء اور ذلیل و حقیر نہیں دیکھا جتنا وہ آج ہے، ڈاکٹر حسن روحانی

میں نے کبھی امریکہ کو اتنا تنہاء اور ذلیل و حقیر نہیں دیکھا جتنا وہ آج ہے، ڈاکٹر حسن روحانی
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران میں منائے جانے والے "یوم صنعت" کی مناسبت سے جمعرات کی صبح ایران میں ڈیزائن اور تیار کردہ نیا ایرانی ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم "باور-373" کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم دشمن کی سازشوں کے مقابلے میں کبھی غمگین ہوئے ہیں اور نہ ہی دلبرداشتہ، بلکہ ہم نے ہمیشہ دشمن کے مذموم منصوبوں کا عزم و حوصلے کے ساتھ جواب دیا ہے۔ صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ 3 سال قبل ایران کے اندر موجود اپنے جاسوسوں کے ذریعے دور دراز کے کچھ علاقوں اور تہران کی کچھ گلیوں میں ہنگامے برپا کروانے میں کامیاب ہوگیا تھا اور اپنے تئیں کئی ماہ کا منصوبہ بنا چکا تھا، لیکن سکیورٹی فورسز کے بروقت اقدامات کے نتیجے میں صرف 5 دنوں میں ہی ان ہنگاموں کی بساط لپیٹ دی گئی، جو غیر ملکی سازشوں کے مقابلے میں ایرانی سکیورٹی فورسز کی ایک بڑی کامیابی تھی۔



ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ نے 2 سال قبل بھی ایرانی جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر خارج ہو کر، جو نہ صرف بین الاقوامی قوانین کو توڑنے بلکہ معاشی دہشتگردی کے بھی مترادف اور کھلی عہد شکنی پر مبنی اقدام تھا، ایران پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کی پوری کوشش کی جبکہ اس کا خیال تھا کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پھر گذشتہ سال انہی خفیہ ہاتھوں نے ملک کے داخلی بازار میں بھی عدم استحکام کی کیفیت پیدا کر دی، جس پر آگاہی، اقتدار اور عوامی جدوجہد کے ذریعے بآسانی عبور پا لیا گیا اور اب جاری سال میں امریکہ نے تاریخ کی سب سے زیادہ اور سخت پابندیاں عائد کرکے ایران کے خلاف اپنی تمامتر طاقت صرف کر دی ہے، لیکن آج ایران پہلے کی نسبت زیادہ مستحکم ہے جبکہ میں نے آج تک امریکہ کو اتنا تنہاء اور ذلیل و حقیر نہیں دیکھا جتنا وہ آج ہے۔

Image result for ‫باور ۳۷۳‬‎

واضح رہے کہ ایران کا قومی ساختہ ایئر ڈیفنس سسٹم "باور-373" ایک پیشرفتہ اور حساس میزائل سسٹم ہے، جو اپنے ہدف کے ساتھ نہ صرف براہ راست تصادم کے ذریعے بلکہ اپنے وارہیڈ کے اندر موجود "سپرنٹرز" کے ذریعے بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ ایئر ڈیفنس سسٹم ریڈار، ٹریکر، لانچر، صیاد-4 میزائل اور کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم جیسی مختلف یونٹس پر مشتمل ہے، جو لڑاکا، ریڈار سے مخفی، اسٹریٹجک، بمبار، الیکٹرانک وار، جاسوس اور ڈرون طیاروں اور ہیلی کاپٹرز سمیت مختلف قسم کے کروز، ریڈار سے مخفی اور بیلسٹک میزائلوں جیسے انتہائی بلندی پر واقع اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ یہ سسٹم ایک ہی وقت میں 300 اہداف کی نشاندہی، 60 کو ٹریک اور 6 کے ساتھ مقابلہ کرسکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 812065
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب