0
Friday 23 Aug 2019 14:45
کشمیر میں میڈیا بلیک آؤٹ اور انسانی حقوق کی پامالی کیخلاف

آزاد کشمیر اور پاکستان کے صحافی سیز فائر لائن کی جانب مارچ کریں گے

عالمی ادارے مقبوضہ وادی میں میڈیا بلیک آؤٹ ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کریں
آزاد کشمیر اور پاکستان کے صحافی سیز فائر لائن کی جانب مارچ کریں گے
اسلام ٹائمز۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس اور نیشنل پریس کلب کے زیر اہتمام مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پہ پابندی، کرفیو اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی کے خلاف اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ فیڈرل یونین آف جرنلٹس کی کال پہ ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے دوران صحافتی تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں مقبوضہ جموں کشمیر میں میڈیا پر عائد پابندیوں کا نوٹس لیں، میڈیا بلیک آؤٹ ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ مقبوضہ کشمیر میں گرفتار اور گھروں میں نظر بند صحافیوں کو فوری طور پر رہا کرایا جائے، مقبوضہ کشمیر عملاً جیل میں تبدیل ہے، کرفیو کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، مریض ہسپتال تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں دم توڑ رہے ہیں، اشیائے خوردونوش کا حصول ناممکن ہو کر رہ گیا ہے، لہذا حقوق انسانی کی تنظیمیں اس المیے کے خلاف اپنا کردار ادا کریں۔ احتجاجی مظاہرے سے پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ، پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز کی رہنماء ناہید خان، آر آئی یو جے کے صدر عامر سجاد سید، نیشنل پریس کلب کے سیکرٹری انور رضا، سابق صدر آر آئی یو جے مبارک زیب، سابق صدور نیشنل پریس کلب طارق چوہدری، شکیل انجم سینئر صحافی ناصر زیدی، سی آر شمسی، فوزیہ شاہد، عاصمہ شیرازی، راجہ کفیل، راجہ خلیل احمد، عابد عباسی، راجہ بشیر عثمانی، ضیاء المرتضیٰ بھیروی سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے صحافی ہربیت سنگھ حریت رہنما عبدالحمید لون، شیخ عبدالمتین و دیگر نے خطاب کیا۔

پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر عملاً جیل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، میڈیا مکمل طور پر بلیک آؤٹ ہے صحافیوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کیا جا چکا ہے، متعدد صحافیوں کے شہید ہونے کی اطلاعات بھی ہیں جبکہ کرفیو کی وجہ سے کشمیریوں کو کھانے پینے کی اشیاء بھی میسر نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ مکمل طور بند ہیں، سوشل میڈیا، انٹرنیٹ پر بھی پابندی ہے، انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہو رہی ہے، کرفیو کی وجہ سے شہریوں کو علاج کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ متعدد مریض اپنے گھروں میں دم توڑ چکے ہیں، تعلیمی ادارے بھی مکمل طور پر بند ہیں اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور میڈیا بلیک آؤٹ کا نوٹس لیں۔ افضل بٹ نے کہا کہ پی ایف یو جے کی کال پر آج کراچی تا خیبر پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں قائم پریس کلبز کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر پابندیوں اور کشمیری صحافیوں کی گرفتاریوں کیخلاف مظاہرے کیے گئے ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر کے صحافیوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے سنٹرل یونین آزاد کشمیر کی اپیل پر پاکستان کے صحافی مظفر آباد جائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم آزاد کشمیر کے صحافیوں کیساتھ مل کر پر امن ریلی کی شکل میں علامتی طور پر اشیائے خوردونوش، ادویات اور پینے کا صاف پانی لیکر سیز فائر لائن کی طرف  مارچ کریں گے تا کہ دنیا کو یہ باور کروایا جا سکے کہ مقبوضہ کشمیر میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ سیکرٹری نیشنل پریس کلب انور رضا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام اپنے پیدائشی حق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں، کشمیریوں کے حق آزادی کو اقوام متحدہ نے خود تسلیم کر رکھا ہے، انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے تاریخ کی عظیم قربانیاں پیش کی ہیں اور کشمیریوں کی یہ قربانیاں ضائع نہیں جانے دی جائیں گی، حکومت پاکستان اپنا کردار اداکرتے ہوئے اقوام عالم کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی طرف متوجہ کرے اور کشمیریوں کا قتل عام رکوانے کیلئے عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے۔ آر آئی یو جے کے صدر عامر سجاد سید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر پابندیوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں نام نہاد جمہوریت کے علمبردار ملک بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور میڈیا بلیک آؤٹ بھارت کے جمہوری چہرے پر بدنما داغ ہے، ہم مقبوضہ کشمیر کے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ ہم مشکل کی اس گھڑی میں ان کیساتھ کھڑے ہیں۔ قبل ازیں نیشنل پریس کلب میں سیاہ پرچم بھی لہرایا گیا جبکہ مظاہرے میں جاوید لاکھا نے کشمیر کے حوالے سے نظم بھی پیش کی، اس موقع پر سیاسی و سماجی شخصیات کیساتھ جڑواں شہروں کے صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
خبر کا کوڈ : 812218
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے