0
Saturday 24 Aug 2019 07:52

ایران پر عائد یکطرفہ امریکی پابندیوں کے خلاف ہیں، چین

ایران پر عائد یکطرفہ امریکی پابندیوں کے خلاف ہیں، چین
اسلام ٹائمز۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان "گینگ شوینگ" نے جمعے کے روز میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے بارہا اس بات پر تاکید کی ہے کہ ایران سمیت پوری بین الاقوامی برادری کے ساتھ چین کے اقتصادی و تجارتی تعلقات بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں ہیں۔ چین کے ایران کے ساتھ عام تجارتی تعلقات مکمل طور پر منطقی اور قانونی ہیں، جن کا احترام اور حفاظت کی جانی چاہیئے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ کہتے ہوئے کہ بیجنگ امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کے خلاف ہے، واضح کیا کہ چین اپنے حقوق اور مفادات کا قطعی طور پر دفاع کرے گا۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوینگ نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا چین اس سمندری گشتی اتحاد کا حصہ بنے گا، جس کو آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کی حفاظت کے لئے امریکہ کئی ایک ممالک کے ساتھ مل کر تشکیل دینا چاہتا ہے یا چین کو اس میں شرکت کا کوئی دعوتنامہ موصول ہوا ہے؟ کہا کہ وزارت خارجہ کو اس بات کا علم نہیں کہ امریکہ نے چین کو اس اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے یا نہیں، البتہ ہم یہ بات ضرور کہہ سکتے ہیں کہ خلیج فارس انرجی کے میدان اور عالمی امن و امان کے لئے انتہائی اہم ہے اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ حالات میں ہمیں امید ہے کہ متعلقہ تمام فریق صبر و حوصلے سے کام لیں گے، تناؤ کو بڑھانے والے کسی بھی اقدام سے پرہیز کریں گے اور اس علاقے کی سلامتی، امن و امان اور استحکام کی سب مل کر حفاظت کریں گے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنی گفتگو میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ان کا ملک دریائے جنوبی کے بارے میں ویسی قضاوت قبول نہیں کرے گا، جیسی امریکہ نے بیان کی ہے، کہا کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کے دریائی حقوق کے کمیشن کو تاحال منظور نہیں کیا، لیکن ہر روز اس کے حوالے سے بیانات دیتا ہے اور دوسرے ممالک کو اس کے مطابق عمل کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ امریکہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خارج ہوچکا ہے، لیکن وہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں دوسرے ممالک کی صورتحال پر تنقید بھی کرتا ہے۔ امریکہ خود تو ایرانی جوہری معاہدے سے خارج ہوچکا ہے، لیکن اقوام متحدہ کی جوہری توانائی ایجنسی سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنا فوری اجلاس بلا کر ایرانی جوہری معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لے۔ گینگ شوینگ کا کہنا تھا کہ آپ کے خیال میں یہ رویہ مضحک نہیں؟ اگر آپ اس رویئے میں غور و فکر کریں تو آپ کو دہرے معیارات، زور و زبردستی پر مبنی منطق، دوغلا پن اور کریہہ چہروں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آئے گا۔
خبر کا کوڈ : 812316
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب