0
Saturday 24 Aug 2019 11:40

رانا ثناء کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

رانا ثناء کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع
اسلام ٹائمز۔ منشیات اسمگلنگ کیس میں مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثناء اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کے لیے توسیع کر دی، جبکہ اثاثے منجمد کرنے کی درخواست پر سماعت 7ستمبر ہو گی۔ اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی خصوصی عدالت کے جج مسعود ارشد نے رانا ثناء اللہ منشیات اسمگلنگ کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نےسی سی ٹی وی ویڈیو کی سی ڈیز نون لیگی رہنما سمیت تمام ملزمان کو فراہم کرکے سیل کر دی۔ اس موقع پر عدالت نے آئندہ سماعت پر اے این ایف حکام کو ہر صورت کیس کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔ واضح رہے کہ کیس کی سماعت کے دوران رانا ثناءاللہ کی اہلیہ، نواز لیگی رہنما عظمٰی بخاری اور رانا ارشد بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

دیگر ذرائع کیمطابق لاہور کی انسداد منشیات عدالت نے سابق وزیر قانون پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ کی ضمانت پر رہائی کے لئے درخواست پر انسداد منشیات فورس (اے این ایف) کو 28 اگست کے لئے نوٹس جاری کر دیئے۔ اے این ایف حکام نے منشیات کی برآمدگی سے متعلق کیس میں جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر رانا ثناء اللہ کو عدالت کے روبرو پیش کیا۔ رانا ثناء اللہ کے وکلا نے درخواست ضمانت پر دلائل دیئے اور نقطہ اٹھایا کہ آئین ہر شہری کی نقل و حرکت کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے جبکہ رانا ثناء اللہ کو تفتیش مکمل ہونے کے بعد جیل میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ عدالت نے درخواست پر انسداد منشیات فورس سے 28 اگست کو جواب مانگ لیا۔ دوسری جانب اے این ایف نے بھی عدالت میں ایک درخواست دائر کی جس میں رانا ثناء اللہ کے اثاثے منجمد کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

عدالت نے درخواست پر ابتدائی کارروائی کے بعد رانا ثناء اللہ کو 7 ستمبر کے لئے نوٹس جاری کر دیئے۔ رانا ثناء اللہ کے وکلا نے خدشہ ظاہر کیا کہ اے این ایف نے جو فوٹیج دی ہے وہ مکمل روٹ کی نہیں ہے، جس پر عدالت نے اے این ایف سے سیف سٹی اتھارٹی کی فوٹیج بھی مانگ لی۔ عدالت کے سامنے اے این ایف نے رانا ثناء اللہ کو ان کا پرس اور گھڑی واپس کر دی۔ لیگی رہنما کی عدالت پیشی کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ یاد رہے کہ یکم جولائی کو مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ کو اے این ایف نے پنجاب کے علاقے سکھیکی کے نزدیک اسلام آباد لاہور موٹروے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس گرفتاری کے بعد ترجمان اے این ایف ریاض سومرو نے بتایا تھا کہ رانا ثناء اللہ کی گاڑی سے منشیات برآمد ہوئی، جس پر انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم اس گرفتاری پر مسلم لیگ (ن) کا سخت ردعمل سامنے آیا تھا اور اس کے پیچھے وزیراعظم عمران خان کے ہونے کا الزام لگایا تھا۔ بعد ازاں گرفتاری کے بعد رانا ثناء اللہ کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں انہیں 14 روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا تھا، جس میں کئی بار توسیع ہو چکی ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 812344
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب