0
Saturday 24 Aug 2019 13:36
متحدہ عرب امارات سے غیر قانونی دولت کی نشاندہی میں تعاون کی درخواست

قانونی طریقہ سے یو اے ای میں کاروبار کرنیوالے پاکستانیوں سے کوئی مسئلہ نہیں، ایف بی آر

قانونی طریقہ سے یو اے ای میں کاروبار کرنیوالے پاکستانیوں سے کوئی مسئلہ نہیں، ایف بی آر
اسلام ٹائمز۔ پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے ان تمام پاکستانیوں کی معلومات فراہم کرنے کی باضابطہ درخواست کردی، جنہوں نے غیر قانونی دولت چھپانے کے لئے اقامے حاصل کئے۔ واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کا قانون غیر ملکی شہریوں کو ایک مقررہ حد سے زائد سرمایہ کاری کی بنیاد پر اقامے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت پاکستان میں اہمیت کی صورت اختیار کر گیا جب یو اے ای کی جانب سے اسلام آباد کو 3 ہزار 620 بینک اکاؤنٹس کے بارے میں بتایا گیا، تاہم اس میں غیر معمولی بیلنس کے حامل اکاؤنٹس کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل ٹیکس ڈاکٹر محمد اشفاق کی جانب سے یو اے ای کی وزارت خزانہ کے انڈر سیکرٹری یونس حاجی الخوری کو ارسال کردہ خط میں کہا گیا کہ یہ نہ صرف ہماری توقعات کے برعکس ہے بلکہ پاکستان کے دیگر تبادلے کے شراکت داروں کے مقابلے میں غیر اہم بھی ہے۔ ڈاکٹر محمد اشفاق نے کہا کہ وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ایسے پاکستانیوں سے کوئی مسئلہ نہیں جو قانونی طریقہ کار سے بھیجے گئے فنڈز کے ذریعے یو اے ای میں قانونی طور پر کاروبار کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ان افراد کے حوالے سے سخت تشویش ہے جنہوں نے پاکستان سے غیر قانونی طور پر پیسہ باہر بھیجا اور اسے یو اے ای میں رکھ کر اقامہ کی بنیاد پر رہائش حاصل کر کے چھپے ہوئے ہیں، یہ دونوں ممالک بالخصوص پاکستان کے لئے قابلِ قبول نہیں۔ مراسلے میں اماراتی وزارت خزانہ سے اس معاملے میں تعاون کی درخواست کی گئی، جبکہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان موجود ڈبل ٹیکسیشن ٹریٹی کی دفعہ 26 اور 27 باہمی یا یک طرفہ تشویش پر باضابطہ تبادلہ خیال کی حمایت کرتی ہیں۔ خیال رہے کہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان مالیاتی چوری روکنے اور ڈبل ٹیکس سے بچنے کے سلسلے میں 13 فروری 1993ء کو ایک سمجھوتے پر دستخط کئے گئے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک نے خاطر خواہ معلومات کے تبادلے کئے۔ اس کے ساتھ کامن رپورٹنگ اسٹینڈرڈ کے تحت بھی پاکستان اور یو اے ای کے درمیان بینک اور مالیاتی اکاؤنٹس کی معلومات کے خودکار تبادلے کا نظام موجود ہے۔ اس سمجھوتے کے تحت بینک اور مالیاتی اکاؤنٹ کی معلومات کا پہلا تبادلہ رواں برس 30 ستمبر کو ہوگا۔ اس ضمن میں حکام کا کہنا تھا کہ ستمبر کے اوائل میں ٹیکس عہدیداروں پر مشتمل وفد یو اے ای جا کر اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس دورے کا مقصد معلومات کے تبادلے کی درخواستوں پر عمل تیز کرنا ہے جو وزیراعظم کی منظوری کے بعد طے کیا جائے گا۔
 
خبر کا کوڈ : 812387
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب