0
Sunday 25 Aug 2019 18:28

یافث نوید ہاشمی ایڈووکیٹ کی بازیابی کیلئے لاہور پریس کلب کے سامنے مظاہرہ

یافث نوید ہاشمی ایڈووکیٹ کی بازیابی کیلئے لاہور پریس کلب کے سامنے مظاہرہ
اسلام ٹائمز۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے سابق مرکزی صدر اور مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے رہنماء سینئر ایڈووکیٹ یافث نوید ہاشمی کی اسلام آباد سے جبری گمشدگی کیخلاف ملک بھر میں احتجاج کیا گیا۔ لاہور پریس کلب کے سامنے آئی ایس او پاکستان اور مجلس وحدت مسلمین  لاہور کے کارکنان نے احتجاج ریکارڈ کروایا۔ اس موقع پر ڈویژنل صدر ڈاکٹر علی رضا نے کہا کہ جب پورا ملک کشمیر میں بھارتی جارحیت کیخلاف سراپا احتجاج ہے ایسے میں محب وطن شہری کا جبری اغواء قابل مذمت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ تین سالوں سے محب  وطن پاکستانی شیعہ جوانوں اور علماء کرام کو اغواء کیا جا رہا ہے۔ متعدد بار لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے احتجاجی تحریکوں کے باجود درجنوں نوجوان تاحال لاپتہ ہیں اور ان کے ورثاء دہری اذیت میں مبتلا ہیں، کئی سال گزرنے کے بعد بھی بیشتر نوجوانوں کو نہ تو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان کے اہلخانہ کو ان کی خیریت سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی اداروں کا یہ اقدام بنیادی انسانی حقوق کے منافی اور آئین پاکستان سے روگردانی ہے۔ ملت تشیع کے نوجوانوں نے ہمیشہ حب الوطنی کا مظاہرہ کیا اور قانون و آئین کی پاسداری کی ہے۔ اگر یافث نوید ہاشمی کسی جرم میں ملوث ہے تو اسے عدالت میں باضابطہ طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔ سزا و انصاف کا فیصلہ کرنا عدلیہ کا کام ہے۔ ملک کے کسی بھی ادارے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ عدالت کے سامنے پیش کیے بغیر کسی بھی شہری کو اس طرح حراست میں رکھے۔ اس موقع پرایڈووکیٹ شکیل نقوی کا کہنا تھا کہ نوجوانوں اور علما کی جبری گمشدگیاں قانون و انصاف کی بدترین پامالی اور قابل مذمت ہیں۔ ریاستی اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ جبری لاپتا افراد کو عدالتوں میں پیش کریں۔ مظاہرین نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر اعظم عمران خان اور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کی اس پامالی کا فوری نوٹس لیا جائے اور یافث نوید ہاشمی سمیت ملت کے تشیع پاکستان کے جبری گمشدہ نوجوانوں کی فوری بازیابی کے احکامات صادر کیے جائیں۔
خبر کا کوڈ : 812544
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے