0
Sunday 25 Aug 2019 18:40

اگر جنگ ہوئی تو جہاد کے لیے لوگوں کو بلایا جائے گا، بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ

اگر جنگ ہوئی تو جہاد کے لیے لوگوں کو بلایا جائے گا، بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ
اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے کئے اقدامات بھارت کو تنہا کردیں گے، نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ توبہ کرتا ہی نہیں ہے اس لیے قبول نہیں ہوتی، وہ توبہ کر لیں تو بات ہو سکتی ہے، میں ضمانت لینے کو تیار ہوں بس وہ جو کمایا ہے اس کے آدھے پیسے دیدیں چھڑانا میرا کام ہے۔ بریگیڈیئر اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ مودی نے یہ اقدام کر کے اپنے تابوت میں آخری کیل ٹھونک کر قائداعظم کے بیانیے کو درست ثابت کر دیا ہے۔ مقبوضہ وادی کے رہائشیوں کے رد عمل پر انہوں نے کہا کہ لوگ اس انتظار میں ہیں کہ کرفیو اٹھے گا تو دنیا دیکھے گی، لیکن جو میری اطلاعات ہیں اس کے مطابق وہاں پر بھرپور احتجاج شروع ہو چکا ہے، بھارتی فوجیوں کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔

پاکستان کے اس معاملے پر کردار کے حوالے سے انہوں نے کہا اتنے کوئیک رسپانس کا کریڈٹ وزارت خارجہ اور وزیراعظم کو جاتا ہے کہ انہوں نے دنیا کو اس حوالے سے فوری اور بروقت آگاہی فراہم کی۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے مودی کو ایوارڈ دینے پر انہوں نے کہا ہر ملک کا اپنا معاشی مفاد ہوتا ہے، میں اس پر جانا نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا ابھی دنیا میں آگاہی اتنی زیادہ ہو چکی ہے اور میں آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت کا جو بھی فیصلہ ہو لیکن وہاں کی عوام مکمل طو رپر کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے۔ جہادی تنظیموں کو کالعدم قرار دینے اوران کے سربراہوں کو قید کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا ہمیں دنیا کو بتانا ہے کہ ہم امن پسند ملک ہیں۔ پلوامہ کے بعد جو ہماری حکومت کا Stance رہا ہے وہ ہمارے گھر میں تو تنقید کا نشانہ بنا ہے اور اس سے جو ہمارا امیج تھا کہ ہم دہشت گرد ریاست ہیں اس میں بہت فرق آیا ہے، ہم نیو کلیئر پاور ہیں اور اللہ نہ کرے کہ ہم اس اسٹیج پر جائیں کہ جنگ کرنا پڑے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر جنگ ہوئی تو جہاد کے لیے لوگوں کو بلایا بھی جائے گا، اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ امین گنڈا پور کے ساتھ میں بھی جنگ کے لیے جاؤں گا۔ انہوں نے کہا مقبوضہ کشمیر اور آزادی کشمیر کے عوام کو ہم یقین دلاتے ہیں کہ حکومت پاکستان، پی ٹی آئی کی حکومت ان کے مکمل طور پر ساتھ ہیں، عمران خان کو ان کی بہت فکر ہے۔ امریکن صدر ٹرمپ کی ثالثی اور کشمیریوں کی اس تشویش کہ ادھر کا کشمیر ادھر والوں کااور ادھر کا کشمیر ادھر والوں کا پر انہوں نے کہا یہ تصور ہے کہ ادھر کا کشمیر ادھر اور ادھر کا کشمیر ادھر ایسا ممکن نہیں، اس پر ہم جنگ کریں گے اور ہم یہ کہہ بھی چکے ہیں کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور جو اس کی ثالثی میں پڑے گا وہ خود پھنس جائے گا، بہتر تو یہ ہوگا کہ ہم خود ہی اس مسئلے کو حل کریں اور پرامن طریقے سے حل کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جلد ہی دنیا دیکھے گی کہ پاکستان حکومت اور پاکستان آرمی کشمیریوں کو Disappoint نہیں ہونے دے گی۔
خبر کا کوڈ : 812582
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب