0
Monday 26 Aug 2019 01:19

گلگت بلتستان کے آئینی حقوق پر قومی کانفرنس

گلگت بلتستان کے آئینی حقوق پر قومی کانفرنس
رپورٹ: ایل اے انجم

جی بی ایورنیس فورم کے زیر اہتمام گلگت میں آئینی حقوق کے معاملے پر قومی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا، کانفرنس سے صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ، عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین مولانا سلطان رئیس، استور سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر غلام عباس، تحریک انصاف کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اکبر حسین اکبر، وکلاء رہنما جاوید احمد ایڈووکیٹ، انجینئر شبیر حسین و دیگر نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر فوری عملدرآمد کیا جائے، سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کیلئے فوری قانون سازی کی جائے، خالصہ سرکار کے نام پر عوامی زمینوں پر جبری قبضوں کے سلسلے کو فوری بند کیا جائے۔

اورنگزیب ایڈووکیٹ، صوبائی وزیر قانون
جی بی ایورینس فورم کے زیراہتمام آئینی حقوق پر قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم نے وکلاء کے ساتھ مل کر اسمبلی سے آئینی صوبے کی قرارداد پاس کرائی تھی، لیکن جب پتہ چلا کہ آئینی صوبہ ناممکن ہے تو فیصلہ کیا گیا کہ قوم کو ایسے ناممکن بیانیے کے پیچھے نہ لگایا جائے، پھر ہم نے سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کی قرارداد پاس کروائی اور اس قرارداد کو سپریم کورٹ کے لاجرر بنچ کے سامنے رکھا، میں نے خود لارجر بینچ کے سامنے یہ قرارداد رکھی اور مطالبہ کیا کہ اس پر عملدرآمد کیا جائے، کیونکہ یہ جی بی اسمبلی اور عوام کی مشترکہ آواز ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ چونکہ تحریک انصاف کی حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے، اس لیے آرڈر 2019ء جاری کیا گیا، تاکہ حقوق مل سکیں۔ اورنگزیب ایڈووکیٹ کا مزید کہنا تھا کہ  ہمیں دیکھنا ہوگا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد ہمارا بیانیہ کیا ہوگا؟ اس پر قومی بحث کرانے کی ضرورت ہے۔

کیونکہ پاکستان گلگت بلتستان سمیت آزاد کشمیر اس وقت ایک دوراہے پر کھڑے ہیں، ہماری طرف سے سوشل میڈیا یا کسی بھی فورم پر کوئی ایسا پیغام نہیں جانا چاہیئے کہ اقوام عالم کو لگے کہ جس بیانیے پر پاکستان کھڑا ہے، اس بیانیے کے گلگت بلتستان کے عوام خلاف ہیں، اس بارے میں کشمیری بھائیوں کو بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات سے ہی جامع حل مل سکتا ہے، اگر قومی اسمبلی میں ان سفارشات پر عمدرآمد کیلئے کوئی قرارداد یا بل پیش ہوتا ہے تو میں خود اپنی پارٹی کو اس کی حمایت پر قائل کروں گا اور مجھے امید ہے کہ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے صوبائی قائدین بھی کردار ادا کرینگے۔ اس وقت تحریک انصاف کی حکومت ہے اور سید جعفر شاہ صوبائی صدر ہیں، وہ ایک قانون دان بھی ہیں، اس لیے معاملات کو بخوبی سمجھتے ہیں، ہماری نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں۔

مولانا سلطان رئیس، چیئرمین عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان
 عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین مولانا سلطان رئیس نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت اختلافات کا نہیں مشترکات پر بات کرنے کا ہے، گلگت  بلتستان گذشتہ بہتر سال سے ریاست پاکستان کے بیانیے کا حامی رہا، کوئی  احتجاج نہیں ہوا، کوئی تحریک نہیں چلی، اس کے باوجود بھی بیانیے کی تکمیل نہیں ہوئی اور محرومیوں کا ازالہ نہیں ہوا، لیکن جب حالات بدل گئے ہیں اور ڈنڈا آنے لگا تو کہنا شروع کر دیا کہ آپ کا بیانیہ قومی بیانیے سے متصادم نہیں ہونا چاہیئے، مطلب یہ ہے کہ ہمیں مزید 72 سال تک انتظار کرنا پڑیگا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم کشمیر کے حقوق اور حیثیت ختم کرنے پر احتجاج کر رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول ختم کرکے غیروں کو موقع کس نے دیا؟ مولانا سلطان رئیس کا کہنا تھا کہ اے ٹی اے اور شیڈول فور کو فوری روکا جائے، یہ چیزیں ریاست کے مفاد میں نہیں بلکہ ریاست مخالفت اقدامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر آئندہ بہتر سال میں بھی عملدرآمد نہیں ہوگا، کیونکہ اگر ان سفارشات پر عمل ہوتا تو نون لیگ کے دور میں ہی ہوتا، سرتاج عزیز نے اپنی ذمہ داری پوری کی اور انہیں اس بات کا بخوبی ادراک تھا کہ جو سفارشات میں تیار کر رہا ہوں، ان پر عملدرآمد نہیں ہوگا، تاہم ایک بات تو طے ہے کہ حقوق مانگنے سے نہیں ملتے، چھیننا پڑتے ہیں۔

عادل عباسی، اینکر پرسن
صحافی و اینکر پرسن عادل عباسی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری روایت رہی ہے کہ اپنی ناکامیوں کو پرانی حکومتوں پر ڈال دیا جاتا ہے، وہ قومیں کامیاب ہوتی ہیں، جو الزامات کی بجائے اقدامات کرتی ہیں، بدقسمتی سے سیاسی پارٹیوں میں جمہوری کلچر نہیں ہے، ایک ڈکٹیٹر شیروانی پہن کر سیاستدان بننا چاہتا ہے اور سیاستدان شیروانی پہن کر ڈکٹیٹر بننا چاہتے ہیں، اگر سیاستدان سیاستدان ہی رہیں تو کامیاب ہوں گے اور ہمارے تمام مسائل بھی حل ہوں گے۔

 ڈاکٹر غلام عباس، چیئرمین استور سپریم کونسل
استور سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر غلام عباس نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ہمیں مسلکی بنیادوں پر لڑایا گیا اور قوم پرستوں کو بدنام کیا گیا، آج اگر دونوں مسالک کے لوگ ایک ہی مسجد میں نماز ادا کریں تو ہم قوم پرستی ہمیشہ کیلئے چھوڑ دیں گے، قوم پرستی کے نام پر ہمیں طعنہ نہ دیا جائے، ہم نے پینتیس سال تک حقوق کی جدوجہد کی اور قوم کے مسائل کو ہر فورم پر لے کر گئے، آج ہم قوم پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ عبوری صوبہ چاہتی ہے یا کشمیر طرز کا سیٹ اپ۔  پہلے قائد ملت جعفریہ آغا راحت حسین الحسینی بھی صوبے کی بات کرتے تھے، اب انہوں نے بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقوق دینے اور سٹیٹ سبجیکٹ رول کا مطالبہ کیا ہے، جب تک ہم ایک قوم نہیں بنیں گے، تب تک ہمیں حقوق حاصل نہیں ہوسکتے، حقوق کیلئے ایک قوم بن کر کام کرنا ہوگا۔

 اکبر حسین اکبر، سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی
تحریک انصاف گلگت بلتستان کے سیکرٹری اطلاعات اکبر حسین اکبر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نعرے بازی میں پھنس گئے تو تباہ ہوں گے، غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، ہمیں ایک بیانیہ پر آنا ہوگا، ہماری منزل پاکستان ہے، کیونکہ ہم نے آزادی ہی اسی لیے حاصل کی تھی، تاکہ پاکستان میں شامل ہوں، لیکن پالیسی میکر نااہل تھے، انہوں نے معاملہ گھمبیر بنا دیا۔ یہ وقت بہت اہم ہے، ہمیں سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور ایک قومی بیانیہ تشکیل دینا ہوگا۔

انجینئر شبیر حسین، رہنما جی بی ایورنیس فورم
 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جی بی ایورنیس فورم کے رہنما انجینئر شبیر حسین نے کہا کہ حقوق لینے کیلئے حقوق سے آگاہی ضروری ہے، نوجوان نسل کو معلوم ہونا چاہیئے کہ حقوق آخر ہیں کیا، کیونکہ آئینی حقوق سے محرومی کی بنیادی وجہ طرح طرح کے مطالبات اور بیانیہ ہے، کسی نے عبوری صوبہ مانگا تو کسی نے آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ، علاقائی اور مسلکی بنیادوں پر بھی مطالبات ہوتے رہے، اگر ریاست حقوق دینا چاہتی بھی ہو تو وہ کنفیوز تھی کہ آخر ان لوگوں کو چاہیئے کیا۔ اس لیے پہلے ضروری ہے کہ حقوق سے آگاہی حاصل ہو، انہوں نے کہا کہ الحاق پاکستان کے بعد بھی ہمیں پاکستانی نہیں سمجھا گیا، آزادی کے بعد پھر انہیں کے ساتھ جوڑ دیا گیا، جن سے ہم نے آزادی حاصل کی تھی۔ لیکن ہم مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کو دیکھیں تو مقبوضہ کشمیر کو شروع سے ہی ایک مکمل سیٹ اپ دیا گیا ہے، جبکہ آزاد کشمیر کو 74 کے ایکٹ کے تحت ایک خود مختار نظام حاصل ہے، لیکن گلگت بلتستان کیلئے کیا ملا؟ یہ سب کے سامنے ہے، یہ ایک قسم کی ریاستی منافقت کا مظاہرہ تھا۔ کانفرنس سے بار کونسل کے وائس چیئرمین جاوید احمد اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

مشترکہ اعلامیہ
1۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے جنوری 2019ء کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے۔
2۔ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو مسترد کیا جاتا ہے، نیز متنازعہ خطوں بشمول گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو یو این سی آئی پی کی قرارداروں کے مطابق بحال کیا جائے، یہ کانفرنس جی بی اسمبلی سے بھی مطالبہ کرتی ہے کہ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کیلئے فوری قانون سازی کی جائے۔
3۔ یہ کانفرنس نام نہاد لینڈ ریفارمز کمیشن کو مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ خالصہ سرکار کے نام پر عوامی ملکیتی زمینوں پر جبری قبضے بند کیے جائیں۔
4۔ گلگت بلتستان کی سرحدوں کا تعین یکم نومبر 1947ء کے تحت کیا جائے اور اس کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
5۔ آج کا یہ عظیم اجتماع گلگت بلتستان میں جاری تمام سیاسی سرگرمیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، نیز اس راہ میں کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں کی مذمت کرتا ہے۔
 6۔ متنازعہ خطہ ہونے کی حیثیت سے جی بی میں اے ٹی اے اور فورتھ شیڈول جیسے کالے قوانین کا نفاذ غیر آئینی اور یو این سی آئی پی کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے، جسے فی الفور ختم کیا جائے۔
بابا جان سمیت حقوق کی جدوجہد کی پاداش میں جن سیاسی کارکنوں کو پابند سلاسل کیا گیا ہے، ان کو فوری رہا کیا جائے۔
8۔ تاریخی تجارتی روٹس کو بحال کیا جائے۔
9۔ گلگت بلتستان کے حقوق کی جدوجہد کو ملک دشمن اور غدار جیسے القابات سے نوازنے کی بجائے یہاں کے لوگوں کے اندر پائے جانے والے احساس محرومی کو ختم کیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 812617
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب