0
Thursday 29 Aug 2019 20:55

امریکی پابندیوں کو نظرانداز کر کے پاک ایران گیس منصوبہ کی تکمیل کیلئے تیسرا معاہدہ کرنیکا فیصلہ

امریکی پابندیوں کو نظرانداز کر کے پاک ایران گیس منصوبہ کی تکمیل کیلئے تیسرا معاہدہ کرنیکا فیصلہ
اسلام ٹائمز۔ پاکستان اور ایران نے امریکی پابندیوں کے باوجود ایک بار پھر اربوں ڈالر مالیت کے آئی پی گیس پائپ لائن منصوبے کو 2024ء تک مکمل کرنے کیلئے تیسرا معاہدہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ ہفتے ترکی میں نیشنل ایرانیئن آئل کمپنی اور پاکستانی کمپنی انٹرسٹیٹ گیس سسٹم کے مابین توسیعی معاہدے پر دستخط ہو نگے۔ وزیراعظم عمران خان کے 21 اپریل کو دورہ ایران کے دوران متعلقہ حکام کے مابین ایران پاکستان معاہدے میں توسیع اور ایران کی جانب سے جاری لیگل نوٹس واپس لینے کا اصولی فیصلہ ہوا۔ نئے معاہدے کے تحت پاکستان اگست 2024ء تک اپنے علاقے میں پائپ لائن تعمیر کرکے 750 ملین کیوبک فٹ گیس یومیہ خریدنے کا پابند ہوگا، بصورت دیگر ایران فرانس میں پاکستان کے خلاف کیس دائر کرکے بھاری جرمانہ عائد کرنے کا کیس دائر کریگا۔

معاہدے کے مطابق پاکستان ایل این جی کے مقابلے میں ایران سے سستی ترین گیس درآمد کرسکتا ہے۔ ایران نے فرانسیسی قانونی ماہرین کی مشاورت سے وزارت قانون نے گیس سیل پرچیز ایگریمنٹ میں ترمیم کے ذریعے 5 سال کی توسیع کے قانونی پہلوئوں کی منظوری دی۔ سرکاری دستاویز کے مطابق ایران پاکستان گیس پائپ لائن معاہدے کے تحت یکم جنوری 2015ء سے گیس کا پہلا بہاؤ شروع کیا جانا تھا، لیکن ایران پر عالمی پابندیوں کے باعث پروجیکٹ پر عملدرآمد نہیں کیا جا سکا، گیس ایران کی جنوبی گیس فیلڈ سے گوادر کے قریب پاک ایران بارڈر پر سپلائی کی جانی تھی، پاک ایران بارڈر کا فاصلہ 1150 کلو میٹر ہے، جبکہ پاکستان کی طرف فاصلہ 781 کلومیٹر بنتا ہے، ایران نے اپنی طرف 900 کلو میٹر کی پائپ لائن کی تعمیر مکمل کر لی، پاکستان کو منتقل کی جانے والی گیس کا حجم 750 ایم ایم ایف سی ڈی ہوگا، جس کے تحت پاکستان کو 25 سال تک گیس ملے گی۔
خبر کا کوڈ : 813418
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب