0
Friday 30 Aug 2019 10:10

افغانستان میں فوج اور انٹیلی جنس ہمیشہ رہیں گے، امریکہ

افغانستان میں فوج اور انٹیلی جنس ہمیشہ رہیں گے، امریکہ
اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ طالبان سے معاہدے کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم ضرور کریں گے، لیکن ہم افغانستان میں ہمیشہ اپنی موجودگی رکھیں گے۔ امریکی ریڈیو کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 8600 تک کردینگے لیکن ہم افغانستان میں موجود رہیں گے اور اپنی انٹیلی جنس وہاں رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے امریکا پر اگر دوبارہ کوئی حملہ ہوا تو ہم بھرپور طاقت کے ساتھ واپس آئیں گے۔ افغانستان میں فی الوقت چودہ ہزار امریکی فوجی اہلکار موجود ہیں جبکہ نیٹو افواج کے اہلکار اس کے علاوہ ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر افغانستان کو دہشت گردی کی ہارورڈ یونیورسٹی قرار دیا اور کہا کہ اگر میں 1 کروڑ لوگوں کو مار دوں تو امریکا یہ جنگ منٹوں میں جیت سکتا ہے لیکن میں ایسا نہیں چاہتا۔

خیال رہے کہ دوحا میں امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے نویں دور کا آج پانچواں روز ہے۔ افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی مشتاق یوسفزئی کے مطابق طالبان ذرائع کے مطابق امریکا نے ان کے 98 فیصد مطالبات مان لیے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان اور امریکا کے درمیان مکمل فائر بندی ہو گی، امریکی اور نیٹو افواج افغانستان میں اپنے آپریشنز روک دیں گے۔ طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کا باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے اور اس اعلان کے بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے۔ افغان طالبان کا کہنا ہے کہ ہم افغانستان کا نام اسلامی امارات افغانستان رکھنا چاہتے تھے اور امریکا مان گیا کہ طالبان حکومت بنانے کے بعد افغانستان کا نام اسلامی امارات افغانستان رکھ لیں۔
 
خبر کا کوڈ : 813464
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش