0
Sunday 1 Sep 2019 00:03
حزب اللہ کی جوابی کارروائی کی دہشت

اسرائیلی فوجی گاڑیوں میں اپنی جگہ "مجسمے" رکھ کر خود چھپ گئے

اسرائیلی فوجی گاڑیوں میں اپنی جگہ "مجسمے" رکھ کر خود چھپ گئے
اسلام ٹائمز۔ لبنان کے "ضاحیہ" نامی علاقے پر اسرائیل کی طرف سے بھیجے گئے 2 ڈرون طیاروں کے حزب اللہ کے ہاتھوں مار گرائے جانے اور پھر حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ کیطرف سے اسرائیل کی اس حرکت کا جواب ضرور دینے کی دھمکی کے پیش نظر لبنان کی سرحد پر موجود اسرائیلی فوجی حزب اللہ کی جوابی کارروائی کے خوف سے اپنی جگہ پر پلاسٹک کے "مجسمے" بٹھا کر خود چھپ گئے ہیں، جبکہ یہی بات عالمی سطح پر اسرائیل کیلئے انتہائی رسوائی کا باعث بنی ہے۔ عرب نیوز چینل "المنار" کے ایک رپورٹر "علی شعیب" کی لی گئی تصویریں جو سوشل میڈیا پر پوری طرح گردش کر رہی ہیں، میں ان مجسموں کو بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔

اقدام عجیب ارتش اسرائیل از ترس حملات حزب‌الله / عکس

واضح رہے کہ حزب اللہ لبنان کی اسرائیل کو وارننگ کے بعد سے تاحال اسرائیلی فوج ریڈ الرٹ پوزیشن میں باقی ہے۔ سوشل میڈیا پر منتشر ہونے والی ان تصاویر پر یوزرز کی طرف سے بہت دلچسپ کامنٹس بھی دیئے گئے ہیں۔ ایک یوزر اسرائیلی فوجیوں کو مخاطب کرکے لکھتا ہے کہ "تمہاری یہ سُبکی تمہاری فوج کے بڑے بڑے افسروں کو بھی اپنے ساتھ لے ڈوبے گی، کیونکہ یہ تمہاری حماقت اور بزدلی کا واضح ثبوت ہے۔ تمہاری اس حماقت اور بزدلی کی اصلی وجہ یہ ہے کہ تم لوگ ایسے مردوں کے ساتھ روبرو ہوئے ہو، جو تمہیں شکست دینے کیلئے عقل، مہارت، شجاعت اور ایمان سے کام لیتے ہیں۔



دوسری طرف اسرائیلی ٹی وی چینل نمبر 13 نے بھی اس خبر کو کوریج دیتے ہوئے لکھا ہے کہ عرب نیوز چینل "المنار" نے اسرائیلی فوجی گاڑیوں میں رکھے گئے ان مجسموں کی تصویریں شائع کرتے ہوئے اسرائیلی فوجیوں کی اس حرکت کو ان کی حماقت اور حزب اللہ کی جوابی کارروائی سے خوف کا واضح ثبوت قرار دیا ہے۔ روسی نیوز چینل "روسیا الیوم" نے بھی اس خبر کو اپنی ویب سائٹ پر "لبنانی خبر نگار کی تصویروں نے اسرائیلیوں کے دلوں میں بیٹھی حزب اللہ کی دہشت کو آشکار کر دیا" کے عنوان سے شہ سرخی کے طور پر شائع کیا ہے اور لکھا ہے کہ اسرائیلی بزدل فوجیوں نے اپنی اس حرکت کے ذریعے حزب اللہ کو، جو جوابی کارروائی کرنا چاہتی ہے، دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے، تاکہ اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بغیر ہی حزب اللہ کا حملہ برداشت کر لیا جائے اور یوں حملے کے جواب میں حملے کے ذریعے پورا قصہ ہی تمام ہو جائے۔
خبر کا کوڈ : 813844
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش