0
Monday 2 Sep 2019 16:48

پنجاب سمیت صوبائی تنظیم تحلیل کرنے کی اطلاع من گھڑت ہے، نعیم الحق

پنجاب سمیت صوبائی تنظیم تحلیل کرنے کی اطلاع من گھڑت ہے، نعیم الحق
اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی تنظیموں کی تحلیل کے حوالے سے خبروں کی تردید کی ہے۔ اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ صوبائی تنظمیوں خصوصاً پنجاب کی تنظیم تحلیل کرنے کی اطلاع سراسر من گھڑت ہے۔ نعیم الحق کا کہنا تھا کہ اعجاز احمد چودھری پنجاب کے صدر ہیں اور تحریک انصاف کے آئین کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے دورے کے حوالے سے زیرگردش اطلاعات بھی حقائق سے یکسر منافی ہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ بلاتصدیق اس قسم کی خبروں کی ترویج غیر اخلاقی، پیشہ وارانہ بددیانتی اور صحافتی اصولوں کیخلاف ہے۔ نعیم الحق نے کہا کہ قیاس آرائیوں اور من گھڑت خبروں کی اشاعت و تریج کی بجائے میڈیا مصدقہ معلومات پر انحصار کرے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف واحد سیاسی جماعت ہے جو جامع آئین رکھتی ہے جبکہ پارٹی میں فیصلہ سازی کا طریقہ کار آئین میں صراحت سے درج ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین کے ویژن کی روشنی میں بطور جدید سیاسی ادارہ پارٹی آئین کی رہنمائی میں آگے بڑھیں گے۔ نجی ٹی وی چینل نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ قیادت نے پنجاب کی تنظیم تحلیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور یہ فیصلہ کور کمیٹی کے اراکین کی مشاورت سے کیا جارہا ہے، پنجاب میں پارٹی کو چار ریجنز میں تقسیم کرنے کی تجویز زیر غور ہے اور پارٹی قیادت نے وزیراعلیٰ پنجاب کو پی ٹی آئی سیکرٹریٹ طلب کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کورکمیٹی اراکین پر برہمی کا اظہار کیا۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق اراکین اسمبلی کو بھی بار بار اسمبلی سیکرٹریٹ آنے کا کہا جاتا ہے جس پر وہ ناخوش ہیں۔ پی ٹی آئی پنجاب کے صدر کے رویے کے خلاف کور کمیٹی میں شکایات درج کروائی گئی تھیں جبکہ کمیٹی کے اراکین اہم اجلاس میں اعجاز چودھری پر برہم ہوگئے۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی پنجاب کی تنظیم سازی ختم کردی جائے گی اور چار ریجنز میں تقسیم کیا جائے گا۔ پارٹی کے آئین میں ایک مرتبہ پھر ترمیم کی جارہی ہے جبکہ پنجاب کی تنظیم سازی کی تحلیل کا باقاعدہ اعلان ایک سے دو روز میں متوقع ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ اعجاز احمد چودھری آج وزیراعظم سے ملاقات بھی کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 814075
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے